پل دو پل کی جو آشنائی تھی
مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی
میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو
جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی
پھر کسی دوسرے کے ہو جانا
یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟
روگ بھی مشترک جدید سا تھا
ہر طرف ایک ہی دہائی تھی
جس کے لب پر سوال آیا تھا
آگ اُس نے ہی آ لگائی تھی
ہم اُسی موڑ پر کھڑے ہیں نجم
جس جگہ سانس ڈگمگائی تھی
جی اے نجم
غلام عباس نجم
No comments:
Post a Comment