Wednesday, 17 June 2026

پل دو پل کی جو آشنائی تھی

 پل دو پل کی جو آشنائی تھی

مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی

میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو 

جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی

پھر کسی دوسرے کے ہو جانا 

یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟

روگ بھی مشترک جدید سا تھا

ہر طرف ایک ہی دہائی تھی

جس کے لب پر سوال آیا تھا 

آگ اُس نے ہی آ لگائی تھی

ہم اُسی موڑ پر کھڑے ہیں نجم 

جس جگہ سانس ڈگمگائی تھی


جی اے نجم

غلام عباس نجم

No comments:

Post a Comment