Thursday, 18 June 2026

درد دل کی دوا نہ ہو جائے

 درد دل کی دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

لطف دیتی ہے کیا امید وفا

بے وفا با وفا نہ ہو جائے

کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا

آہ یا رب رسا نہ ہو جائے

دل میں حسرت بسا تو لی ہے مگر

یہ کڑی سلسلہ نہ ہو جائے

اپنی دنیا اسی سے روشن ہے

گل چراغ وفا نہ ہو جائے

ہم ستم کو کرم سمجھتے ہیں

ان پہ یہ راز وا نہ ہو جائے

اک زمانہ ہے اس کا دیوانہ

کہیں وہ بت خدا نہ ہو جائے

دل ہی سب سے بڑا سہارا ہے

دل کسی سے جدا نہ ہو جائے

تم اگر چھو لو اپنے ہونٹوں سے

شعر میرا تِرا نہ ہو جائے

دل لٹا کر جگر ہماری طرح

کوئی بے آسرا نہ ہو جائے


جگر جالندھری

No comments:

Post a Comment