Showing posts with label رہبر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label رہبر لکھنوی. Show all posts

Saturday, 17 October 2026

خود کو کبھی جو خود سے ملانا پڑا ہمیں

 خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں

چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں

تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے

خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں

مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا

ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں

Wednesday, 27 May 2026

دل کے ہر ایک گوشے میں رقص شرر ہوا

 دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا

جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا

لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا

دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا

اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر

میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا

Wednesday, 15 October 2025

جو تمام عمر بن کر مرا حوصلہ رہی ہے

 جو تمام عمر بن کر مِرا حوصلہ رہی ہے

وہی آج میری غیرت مجھے آزما رہی ہے

مِری فکر جانے مجھ کو کہاں لے کے جا رہی ہے

کہ قدم قدم پہ منزل سرِ راہ آ رہی ہے

نہیں چھوڑتی ہے مجھ کو کسی موڑ پر یہ دنیا

میں اسے رُلا رہا ہوں یہ مجھے رُلا رہی ہے

Saturday, 19 July 2025

جنون عشق جسے سر پھرا بنا دے گا

 جنونِ عشق جسے سر پھرا بنا دے گا

پہاڑ کاٹ کے وہ راستہ بنا دے گا

خمارِ حسن سلامت رکھے خدا اس کا

جہاں وہ چاہے وہاں میکدہ بنا دے گا

اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں سبھی کے دل

وہ جس کو چاہے اسے پارسا بنا دے گا

Saturday, 21 June 2025

پتہ ہم کو چلی یہ بات قرآں کے بتانے پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پتہ ہم کو چلی یہ بات قُرآں کے بتانے پر

خُدا کا قُرب ملتا ہے نبیؐ سے دل لگانے پر

اسے بھی بعثتِ سرکارؐ کا اعجاز ہی کہیے

وہﷺ آئے تو نظامِ زندگی آیا ٹھکانے پر

مکمل مقصدِ تخلیقِ آدم یوں کِیا رب نے

نبوت ختم کر دی رحمتِ عالمؐ کے آنے پر