خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں
چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں
تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے
خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں
مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا
ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں
خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں
چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں
تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے
خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں
مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا
ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں
دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا
جو تمام عمر بن کر مِرا حوصلہ رہی ہے
وہی آج میری غیرت مجھے آزما رہی ہے
مِری فکر جانے مجھ کو کہاں لے کے جا رہی ہے
کہ قدم قدم پہ منزل سرِ راہ آ رہی ہے
نہیں چھوڑتی ہے مجھ کو کسی موڑ پر یہ دنیا
میں اسے رُلا رہا ہوں یہ مجھے رُلا رہی ہے
جنونِ عشق جسے سر پھرا بنا دے گا
پہاڑ کاٹ کے وہ راستہ بنا دے گا
خمارِ حسن سلامت رکھے خدا اس کا
جہاں وہ چاہے وہاں میکدہ بنا دے گا
اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں سبھی کے دل
وہ جس کو چاہے اسے پارسا بنا دے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پتہ ہم کو چلی یہ بات قُرآں کے بتانے پر
خُدا کا قُرب ملتا ہے نبیؐ سے دل لگانے پر
اسے بھی بعثتِ سرکارؐ کا اعجاز ہی کہیے
وہﷺ آئے تو نظامِ زندگی آیا ٹھکانے پر
مکمل مقصدِ تخلیقِ آدم یوں کِیا رب نے
نبوت ختم کر دی رحمتِ عالمؐ کے آنے پر