میں کنواری ہوں
میں نے تین بچوں کو جنم دیا
اور ایک خواہش کو
میں نے تین عیسیٰ دو صلیبوں پر لٹکے ہوئے پائے
پر مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا
کنویں میں آگ لگا دو
میں کنواری ہوں
میں نے تین بچوں کو جنم دیا
اور ایک خواہش کو
میں نے تین عیسیٰ دو صلیبوں پر لٹکے ہوئے پائے
پر مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا
کنویں میں آگ لگا دو
جانتی ہو، نظمیں لکھ لینے سے
دل کی سیاہی نہیں دھلتی
اس ابلتے کھارے پانی میں
حافظے کی جھاگ نہیں گھلتی
پھر بھی یہ آخری قطرۂ جاں
دل کی سیپی میں سنبھالے
بے رنگ نیتیں
کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو؟
پاکبازوں کی نیتوں کی؟
مِرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں
(ہُبل سِراپِس کے بھاری جسوں نے کب سمانا تھا میرے نطفے میں)
مِرے سرہانے
تو جسم کی بھوک کا دیوتا کھڑا ہے
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
تمہارے کُولہے کا تِل
تمثیل کی کان بن جائے گا
غم جس کی یاد میں
نئے استعارے کھودنے وہاں آیا کرے گا
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
نہ آسماں پر کوئی ستارہ، نہ کوئی مہتاب جاگتا ہے
تمام بستی ہے غرقِ دریا، طلسمِ سیلاب جاگتا ہے
عجیب ہے بے گھری کا لمحہ نہ کوئی چادر نہ کوئی تکیہ
عجیب گھر ہے کہ جس میں آ کر شعورِ اسباب جاگتا ہے
ملالِ تنہائی سے لپٹ کر، ہجومِ خلقت کو یاد کر کے
تمام شب ایک شخص مجھ میں بغیرِ احباب جاگتا ہے