Showing posts with label رضی حیدر. Show all posts
Showing posts with label رضی حیدر. Show all posts

Thursday, 30 September 2021

میں کنواری ہوں میں نے تین بچوں کو جنم دیا

 میں کنواری ہوں 

میں نے تین بچوں کو جنم دیا 

اور ایک خواہش کو 

میں نے تین عیسیٰ دو صلیبوں پر لٹکے ہوئے پائے 

پر مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا 

کنویں میں آگ لگا دو 

Thursday, 9 September 2021

سورج کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں

 جانتی ہو، نظمیں لکھ لینے سے

دل کی سیاہی نہیں دھلتی

اس ابلتے کھارے پانی میں

حافظے کی جھاگ نہیں گھلتی

پھر بھی یہ آخری قطرۂ جاں

دل کی سیپی میں سنبھالے

Wednesday, 8 September 2021

بیرنگ نیتیں کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو

 بے رنگ نیتیں


کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو؟ 

پاکبازوں کی نیتوں کی؟

مِرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں

(ہُبل سِراپِس کے بھاری جسوں نے کب سمانا تھا میرے نطفے میں)

مِرے سرہانے

تو جسم کی بھوک کا دیوتا کھڑا ہے

Monday, 6 September 2021

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو

 اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو

تمہارے کُولہے کا تِل

تمثیل کی کان بن جائے گا

غم جس کی یاد میں

نئے استعارے کھودنے وہاں آیا کرے گا

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو

Wednesday, 26 May 2021

نہ آسماں پر کوئی ستارہ نہ کوئی مہتاب جاگتا ہے

 نہ آسماں پر کوئی ستارہ، نہ کوئی مہتاب جاگتا ہے

تمام بستی ہے غرقِ دریا، طلسمِ سیلاب جاگتا ہے

عجیب ہے بے گھری کا لمحہ نہ کوئی چادر نہ کوئی تکیہ

عجیب گھر ہے کہ جس میں آ کر شعورِ اسباب جاگتا ہے

ملالِ تنہائی سے لپٹ کر، ہجومِ خلقت کو یاد کر کے

تمام شب ایک شخص مجھ میں بغیرِ احباب جاگتا ہے

Thursday, 6 August 2020

محبت ایک جیسی ہے وفائیں ایک جیسی ہیں

محبت ایک جیسی ہے، وفائیں ایک جیسی ہیں
یہاں موسم بدلنے پر ہوائیں ایک جیسی ہیں
عجب شہرِ سخن آباد ہے، میری سماعت میں
عجب شہرِ خموشاں ہیں صدائیں ایک جیسی ہیں
تِری آنکھوں میں آوازیں مِرے ہونٹوں پہ سناٹا
سفر کی داستانیں کیا سنائیں، ایک جیسی ہیں

مل گئی جب بھی نظر دونوں ہو گئے خاموش

مل گئی جب بھی نظر دونوں ہو گئے خاموش
کچھ نہ تھی بات مگر دونوں ہو گئے خاموش
اپنے ہی عکس سے ایک خوف ہوا یوں بیدار
آئینہ" اور "نظر" ہو گئے دونوں خاموش"
ڈوبتی شام نے جب دل میں اداسی رکھی
پھر ہوا اور شجر ہو گئے دونوں خاموش

Tuesday, 4 August 2020

آخر سخن تمام کیا اس دعا کے ساتھ

آخر سخن تمام کِیا اس دعا کے ساتھ
رہنا گلوں کے بیچ مہکنا ہوا کے ساتھ
اک بے کنار ہجر مِری روح میں مقیم
اک بے پناہ خوف مِری التجا کے ساتھ
اک برگِ خشک شاخ سے گرنے کا منتظر
اور میرا جسم کانپ رہا ہے ہوا کے ساتھ

کس کے دل کی میں تمنا ہوں مجھے کیا معلوم

کس لیے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم
میں تو بس وقفِ تماشا ہوں مجھے کیا معلوم
کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم
میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم
کون رہتا ہے مِرے دل کے نہاں خانے میں
کس کے دل کی میں تمنا ہوں مجھے کیا معلوم

Monday, 3 August 2020

رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا

گزری جو رہگزر میں اسے در گزر کیا
اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا
چشمِ سلیقہ ساز! تُو خاموش ہی رہی
رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا
آزردگانِ ہجر کی وحشت عجیب ہے
نکلے نہ گھر سے، اور نہ آباد گھر کیا

اپنی تنہائی میں تنہا ہوں تہہ خاک بھی میں

جیسا دنیا میں تھا ویسا ہوں تہہِ خاک بھی میں
بس تماشا تھا تماشا ہوں تہہِ خاک بھی میں
میں نے جو آگ جلائی تھی سخن میں اپنے
دیکھ اس آگ میں جلتا ہوں تہہِ خاک بھی میں
دشتِ جاں میں بھی تھا تصویرِ تمنا کی مثال
اور تصویرِ تمنا ہوں تہہِ خاک بھی میں

اپنے ہی سامنے دیوار ہو اک عمر سے تم

اپنے ہی سامنے دیوار ہو اِک عمر سے تم
کیسی ذِلت میں گرفتار ہو اک عمر سے تم
جس کو تعبیر سمجھتے ہو، وہ تعبیر نہیں
عرصۂ خواب میں بیدار ہو اک عمر سے تم
اپنے احوال میں خوش رہنے کی تدبیر کرو
کس لیے خوگرِ آزار ہو اک عمر سے تم

Sunday, 2 August 2020

روزن کی جگہ آنکھ ہے دیوار نسب میں

جس دن سے تماشا ہوں میں دربارِ نسب میں
روزن کی جگہ آنکھ ہے دیوارِ نسب میں
شاخوں پہ فروزاں ہوں تعلق کے نئے پھول
خوشبو کوئی "پھیلے" مِرے گلزارِ نسب میں
ہر شخص کی نسبت سے طبیعت ہے مکدّر
الجھا ہوں کچھ اس طرح سے پندارِ نسب میں

تو میرے دل سے اٹھا اور تیری راہ سے میں

گزر رہا ہوں عجب سیلِ اشتباہ سے میں
تجھے بھی دیکھتا ہوں غیر کی نگاہ سے میں
تِری پناہ میں آرامِ جسم و جاں ہے، مگر
پناہ مانگ رہا ہوں تِری "پناہ" سے میں
تِری وصال طلب آنکھ سے گریز پہ بھی
بہت قریب ہوں احوال میں گناہ سے میں

یہ تیرا قرب تِری دوستی ہے کتنی دیر

چراغِ بزم تِری منصبی ہے کتنی دیر
شرر نژاد ہے تُو زندگی ہے کتنی دیر
ہواۓ دہر بھی ٹھہری ہے فرصتوں کی حریف
تِرے خیال کی مہلت ملی ہے کتنی دیر
حریمِ ناز سے نکلی تو تیرے جسم کی بات
زبانِ خلقِ خدا پر رہی ہے کتنی دیر

Friday, 31 July 2020

وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے

وقت عجیب آ گیا، منصب و جاہ کے لیے
صاحبِ دل بھی چل پڑے، تخت و کلاہ کے لیے
اس کا ہدف بھی دیکھنا، میری طرف بھی دیکھنا
قتلِ انا کی شرط ہے، اس سے نِباہ کے لیے
ایک نوائے آتشیں، حلقہ بہ حلقہ جسم میں
پھر سے ہوئی ہے تازہ دم، تازہ گناہ کے لیے

پھر زمین صبح تک خواب ہو جائے گی آسماں

پھر یہاں ہجر کی شب طلسمِ زمان و مکان صبح تک خواب ہو جائے گا
پھر زمین صبح تک خواب ہو جائے گی آسماں صبح تک خواب ہو جائے گا
پھر اچانک تیرے ناز کی لہلہاتی ہری کھیتیاں خشک ہو جائیں گی
وقت تھم جائے گا، اور ہر ایک منظر یہاں تک خواب ہو جائے گا
نرم لمحوں کی آغوش میں زندگی رقص کرتی رہی، اور کہتی رہی
رقص، کر رقص کر، ورنہ خوشبہ کا سیلِ رواں صبح تک خواب ہو جائے گا

Monday, 4 April 2016

مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا

مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا
ہے تیرے دم سے سلامت یہاں کا سناٹا
بہار اپنی حکایت سے آشنا ہی نہیں
خزاں کے ساتھ کھڑا ہے خزاں کا سناٹا
ہجومِ کار میں اب یاد ہی نہیں رہتا
کہ دل کو کھینچ رہا ہے کہاں کا سناٹا

گزری جو رہ گزر میں اسے در گزر کیا

گزری جو رہگزر میں اسے در گزر کِیا
اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا
چشمِ سلیقہ ساز تو خاموش ہی رہی
رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا
آزردگانِ ہجر کی وحشت عجیب ہے
نکلے نہ گھر سے اور نہ آباد گھر کیا