بے رنگ نیتیں
کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو؟
پاکبازوں کی نیتوں کی؟
مِرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں
(ہُبل سِراپِس کے بھاری جسوں نے کب سمانا تھا میرے نطفے میں)
مِرے سرہانے
تو جسم کی بھوک کا دیوتا کھڑا ہے
کہاں سے ٹوٹے گا اس دیوتا کا بت کہ جس کا)
(خمیر ماؤں کی ناڑ میں ہو
لٹکتی جیبھوں میں اُس کی
شہوت کے زرد شعلوں
کا رقص بھپکوں میں اڑ چکا ہے
ہزاروں روحوں کا لمس
چوہوں کی دم کی مانند
کڑکیوں میں پھسا ہوا ہے
اٹا اندھیرا، پسینہ، بدبو
خمار، جام و سبو سبھی ہیں
گداز جسموں پہ کاو کاو
آخری ہوس کے نشاں تو ہیں
نیتیں نہیں ہیں
رضی حیدر
No comments:
Post a Comment