Showing posts with label احمد سلمان. Show all posts
Showing posts with label احمد سلمان. Show all posts

Friday, 18 March 2022

دلوں کے باب میں لکھا تھا قاعدے کی طرح

 دلوں کے باب میں لکھا تھا قاعدے کی طرح

زیاں سمیٹتے رہیۓ گا فائدے کی طرح

وہ گلبدن ہوا رقصاں تو پھر کُھلا ہم پر

کسی گلاب کے منظوم ترجمے کی طرح

عجیب حسن تھا آرائشوں سے ماند پڑا

وضاحتوں سے بگڑتے معاملے کی طرح

Sunday, 27 December 2020

خموشی کا کوئی لہجہ نہیں ہے

 خموشی کا کوئی لہجہ نہیں ہے

ہمیں لگتا ہے پر ایسا نہیں ہے

محبت سب سے اچھی شے ہے لیکن

محبت میں بھی سب اچھا نہیں ہے

یہ میری زندگی اک مسئلہ ہے

مگر یہ مسئلہ میرا نہیں ہے

Sunday, 23 August 2020

شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا

شاخ امکان پر، کوئی کانٹا اُگا، کوئی غنچہ کِھلا، میں نے غزلیں کہیں
ایام ایذا گریزی میں جو بھی ہوا، میں نے ہونے دیا، میں نے غزلیں کہیں
لوگ چیخا کئے، وہ جو معبود ہے، بس اسی کی ثناء، بس اسی کی ثناء
میری شہ رگ سے میرے خدا نے کہا، مجھ کو اپنی سنا، میں نے غزلیں کہیں
حبسِ بیجا میں تھی شہر کی جب ہوا، آپ جیتے رہے، آپ کا حوصلہ
میں اصولوں وغیرہ کا مارا ہوا، مجھ کو مرنا پڑا، میں نے غزلیں کہیں

جو دکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو دِکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دِکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
یہ شہر سارا تو روشنی میں کھُلا پڑا ہے، سو کیا لکھوں میں
وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دِیا ہے وہ شاعری ہے
دلوں💕 کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے، وہ شاعری ہے

اگر جانا ہی لازم ہے

اگر جانا ہی لازم ہے

اگر جانا ہی لازم ہے
تو پھر جانے سے پہلے تم
وہ سب سامان لے جاؤ
جو ماضی کے کئی سالوں کے کمروں میں
میرے احساس کی شیلفوں کے خانوں میں
یقیں کے کونے کھدروں میں

Saturday, 22 August 2020

یہ ہاتھ میں تیرے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا

یہ ہاتھ میں تیرے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
نجومیوں نے بتایا کہ کاتبِ تقدیر
میرا نصیب ستاروں میں رکھ کے بھول گیا
ہے آج بھی دفتر کا ایک اک کاغذ
پر اپنے خواب ترازو میں رکھ کے بھول گیا

نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں

نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو
اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں
ایک جادو ہے سبھی کا کئی منتر، لیکن
سبز گوں ہیں کہی نیلی کہی بھوری آنکھیں

دل سے اک خواہش بے تاب لگا دیتا ہے

دل سے اک خواہش بیتاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندئ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صَوت ہوں لیکن تیرا قاتل لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
پھر کہیں بیچ میں ماہتاب لگا دیتا ہے

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
دل دشت میں اک پیاس تماشا ہے کہ تم ہو
اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
اک غیب سے آیا ہوا مصرعہ ہے کہ تم ہو
دروازہ بھی جیسے مِری دھڑکن سے جڑا ہے
دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے، کہ تم ہو

Tuesday, 4 August 2015

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے وہ خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے وہ خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہی درختوں سے اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا
جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرا لکھا تھا
لاش کے ننھے ہاتھ میں بستہ اور اک کھٹی گولی تھی
خون میں ڈوبی اک تختی پر غین غبارا لکھا تھا
آخر ہم ہی مجرم ٹھہرے جانے کن کن جرموں کے
فردِ عمل تھی جانے کس کی، نام ہمارا لکھا تھا