Saturday, 22 August 2020

یہ ہاتھ میں تیرے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا

یہ ہاتھ میں تیرے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
نجومیوں نے بتایا کہ کاتبِ تقدیر
میرا نصیب ستاروں میں رکھ کے بھول گیا
ہے آج بھی دفتر کا ایک اک کاغذ
پر اپنے خواب ترازو میں رکھ کے بھول گیا
ہزار چہرے جو بدلے تو کھو گیا چہرہ
میں اپنا جسم لباسوں میں رکھ کے بھول گیا
نجانے کون سے پیالے میں آبِ کوثر تھا
یہیں کہیں میں شرابوں میں رکھ کے بھول گیا

​احمد سلمان

No comments:

Post a Comment