یہ ہاتھ میں تیرے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
نجومیوں نے بتایا کہ کاتبِ تقدیر
میرا نصیب ستاروں میں رکھ کے بھول گیا
ہے آج بھی دفتر کا ایک اک کاغذ
ہزار چہرے جو بدلے تو کھو گیا چہرہ
میں اپنا جسم لباسوں میں رکھ کے بھول گیا
نجانے کون سے پیالے میں آبِ کوثر تھا
یہیں کہیں میں شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
احمد سلمان
No comments:
Post a Comment