یونہی اندھا بنا رہا ہوں میں
مستقل دیکھتا رہا ہوں میں
آپ سے جھوٹ بول سکتا ہوں
آپ کو سچ بتا رہا ہوں میں
یہ عدم کی زمین ہے لیکن
میں ترا مسئلہ سمجھتا ہوں
پاگلوں کا خدا رہا ہوں میں
لوگ جس پل سے آتے جاتے ہیں
اس پہ دریا بنا رہا ہوں میں
آپ کو کم بتایا جاتا رہا
اچھا خاصا برا رہا ہوں میں
جشن کے دن ہیں شہر میں
اور مصائب سنا رہا ہوں میں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment