مستقل اس میں ٹھکانہ بھی نہیں چاہتے ہم
اور اس دشت سے جانا بھی نہیں چاہتے ہم
دیکھ سکتے ہیں کہ دیوار کے پیچھے کیا ہے
بات ایسی ہے، بتانا بھی نہیں چاہتے ہم
چاہتے ہیں کہ خریدار بھی دوڑے آئیں
جانے والوں کو اجازت بھی نہیں دے سکتے
ان چراغوں کو بجھانا بھی نہیں چاہتے ہم
چاہتے ہیں کہ بلاوا بھی وہی بھیجے ہمیں
جس کی آواز پہ جانا بھی نہیں چاہتے ہم
روز آجاتے ہیں تنہائی سے سر پھوڑنے کو
اور، یہ دیوار گرانا بھی نہيں چاہتے ہم
عمران عامی
No comments:
Post a Comment