نظر کے سامنے صحرائے بے پناہی ہے
قریب و دُور مِرے بخت کی سیاہی ہے
افق کے پار کبھی دیکھنے نہیں دیتی
شریک راہ امیدوں کی کم نگاہی ہے
بھرا پرا تھا گھر اس کا خوشی کے میلے سے
یہ کیا ہوا کہ وہ اب راستہ کا راہی ہے
نظر کے سامنے صحرائے بے پناہی ہے
قریب و دُور مِرے بخت کی سیاہی ہے
افق کے پار کبھی دیکھنے نہیں دیتی
شریک راہ امیدوں کی کم نگاہی ہے
بھرا پرا تھا گھر اس کا خوشی کے میلے سے
یہ کیا ہوا کہ وہ اب راستہ کا راہی ہے