Showing posts with label ارمان نجمی. Show all posts
Showing posts with label ارمان نجمی. Show all posts

Sunday, 22 August 2021

نظر کے سامنے صحرائے بے پناہی ہے

نظر کے سامنے صحرائے بے پناہی ہے

قریب و دُور مِرے بخت کی سیاہی ہے

افق کے پار کبھی دیکھنے نہیں دیتی

شریک راہ امیدوں کی کم نگاہی ہے

بھرا پرا تھا گھر اس کا خوشی کے میلے سے

یہ کیا ہوا کہ وہ اب راستہ کا راہی ہے

Tuesday, 1 September 2020

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو

کبھی تو آ کے مِلو،۔ میرا حال تو پوچھو
کہ مجھ سے چھُوٹ کے بھی آج کیسے زندہ ہو
جوانیوں کی یہ رُت کس طرح گزرتی ہے
بس ایک بار تم اپنی نظر سے دیکھ تو لو
وہ آرزوؤں کا موسم تو کب کا بِیت چُکا
میں کب سے جھیل رہا ہوں دُکھوں کے صحرا کو

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے
زباں پہ کانٹوں کا احساس بھی غنیمت ہے 
رواں ہے سانس کی کشتی اسی کے دھارے پر 
یہ ایک ٹوٹی ہوئی آس بھی غنیمت ہے
نشاں نمُو کے ہیں کچھ تو بساطِ صحرا پر
جھلستی جلتی ہوئی گھاس بھی غنیمت ہے

گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا

گزرتے دن کے دکھوں کا پتا تو دیتا تھا
وہ شام ڈھلنے سے پہلے صدا تو دیتا تھا
ہجوم کار میں پل بھر بھی اک بہانے سے
وہ اپنے قرب کا جادو جگا تو دیتا تھا
شریکِ راہ تھا وہ ہمسفر نہ تھا پھر بھی
قدم قدم پہ مجھے حوصلہ تو دیتا تھا

Tuesday, 22 May 2018

نہ حرف شوق نہ طرز بیاں سے آتی ہے

نہ حرفِ شوق نہ طرزِ بیاں سے آتی ہے 
سپردگی کی صدا جسم و جاں سے آتی ہے 
کوئی ستارہ رگ و پے میں ہے سمایا ہوا 
مجھے خود اپنی خبر آسماں سے آتی ہے 
کسی دکان سے ملتی نہیں ہے گرمیٔ شوق 
یہ آنچ وہ ہے جو سوزِ نہاں سے آتی ہے 

اپنی سچائی کا آزار جو پالے ہوئے ہیں

اپنی سچائی کا آزار جو پالے ہوئے ہیں 
خود کو ہم گردشِ آفات میں ڈالے ہوئے ہیں 
ہیں تو آباد، مگر در بدری کی زد پر 
وہ بھی میری ہی طرح گھر سے نکالے ہوئے ہیں 
اپنی رفتار سے آگے بھی نکل سکتا ہوں 
مجھ پہ کب حاوی مرے پاؤں کے چھالے ہوئے ہیں 

بظاہر یہ وہی ملنے بچھڑنے کی حکایت ہے

بہ ظاہر یہ وہی ملنے بچھڑنے کی حکایت ہے 
یہاں لیکن گھروں کے بھی اجڑنے کی حکایت ہے 
سپہ سالار کچھ لکھتا ہے تصویر ہزیمت میں 
مگر یہ تو عدو کے پاؤں پڑنے کی حکایت ہے 
کنیزِ بے نوا نے ایک شہزادے کو چاہا کیوں 
محبت زندہ دیواروں میں گڑنے کی حکایت ہے 

Monday, 21 March 2016

شریک بزم تمنا کی جستجو بھی گئی

شریکِ بزمِ تمنا کی جستجو بھی گئی
بجھے چراغ بھی، جینے کی آرزو بھی گئی
وہ رُت گزر بھی چکی جس میں پھول کھلنے تھے
دیارِ خواب سے تعبیرِ رنگ و بو بھی گئی
ہے زخم زخم سراپا  مِرا وجود، مگر
وہ بے دلی ہے کہ اب کاوشِ رفو بھی گئی

پچھلی رفاقتوں کا نہ اتنا ملال کر

پچھلی رفاقتوں کا نہ اتنا ملال کر
 اپنی شکستگی کا بھی تھوڑا خیال کر
ڈس لے تمہیں کو نہ موقع نکال کر
رکھو نہ آستیں میں کوئی سانپ پال کر
شرمندگی کا زخم نہ گہرا لگے کہیں
کچھ اس قدر دراز نہ دستِ سوال کر

تمہا رے چاہنے سے اور کیا ہو گا مری جاں

تمہا رے چاہنے سے اور کیا ہو گا مِری جاں
بدل جا ئے گی کیا یہ صورت دنیا مری جاں
نظر آتا نہیں لیکن رگ و پے میں رواں ہے
حقیقت سے ہے کیسا خواب کا رشتہ مری جاں
جگہ سے بے جگہ ہونا نہ پڑ جائے تمہیں بھی
بدلتا جا رہا ہے شہر کا نقشہ مری جاں

دن ڈھل چکا ہے اور گھڑی بھر کی شام ہے

دن ڈھل چکا ہے اور گھڑی بھر کی شام ہے
پھر اس کے بعد آج کا قصہ تمام ہے
اس زندگی سے میری نبھے گی تو کس طرح
میں سست رو ہوں اور یہ بہت تیز گام ہے
لاحاصلی کا ساتھ نہ چھوٹا تمام عمر
سینے میں خواہشوں کا وہی ازدحام ہے