Showing posts with label ذیشان مہدی. Show all posts
Showing posts with label ذیشان مہدی. Show all posts

Wednesday, 5 June 2024

نعت جن شاعروں کا خاصہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت جن شاعروں کا خاصہ ہے

اُن سے سرکارﷺ خود شناسا ہے 

تیری چاہت مجھے بچا لے گی

گو مقدر مِرا بُرا سا ہے 

اک مسلسل سفر تِری جانب

زندگی کا یہی خلاصہ ہے

Tuesday, 10 October 2023

ہم مر رہے تھے لوگ کھڑے دکھتے رہے

 ہم مر رہے تھے، لوگ کھڑے دکھتے رہے

سب رشتہ دار ضِـد پہ اڑے دیکھتے رہے

تھی اتنی بے بسی کہ کڑے امتحان سے

بچے گزر رہے تھے، بڑے دیکھتے رہے

ہر بار وہ بدل کے گزرتا تھا راستہ

ہم کتنے راستوں میں پڑے دیکھتے رہے

Wednesday, 30 March 2022

پدم کے ہیرو تری جدائی پہ یاد آیا وہ خواب تیرا

پدم کے آخری ہیرو محمد امین سندوس کے نام (نوحہ) 


پدم کے ہیرو 

تری جدائی پہ یاد آیا 

وہ خواب تیرا 

جو تھا ادھورا 

وہ ہے ادھورا 

ہم اُس کی تعبیر چاہتے ہیں 

Monday, 12 July 2021

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

 اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

یہ کیسا پیار ہے جو پیار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری خواہشیں اظہار کی حد تک نہیں جاتیں

ہمارا حوصلہ دیدار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری زندگی میں ایک سُستی سی مسلسل ہے

ہمارا خون اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتا

جاؤں گا کہاں تیری کہانی سے نکل کر

 جاؤں گا کہاں تیری کہانی سے نکل کر

ماہی ہوں میں، مر جاؤں گا پانی سے نکل کر

جب سامنے رکھتا ہوں تِری کوئی نشانی

تُو سامنے آتا ہے نشانی سے نکل کر

اب کیا ہے بڑھاپے کے سوا میرے بدن پہ

یہ کون گیا میری جوانی سے نکل کر؟

Saturday, 10 July 2021

دن بھر کی مشقت سے ملا صرف دلاسا

 دن بھر کی مشقت سے ملا صرف دِلاسا

مزدور کی محنت کا صِلہ، صرف دلاسا

بازار میں سستا تھا فقط ایک یہ سودا

بچوں کے لیے لے کے چلا صرف دلاسا

ہمسائے کی آتی ہیں صدائیں مِرے گھر تک

دیتا ہے غریبوں کو خدا؛ صرف دلاسا

Wednesday, 17 March 2021

حوصلہ پیار میں اب پست نہ ہونے دوں گا

 حوصلہ پیار میں اب پست نہ ہونے دوں گا

پشت پر تیر میں پیوست نہ ہونے دوں گا

جان پر کھیل کے روکوں میں سیلاب کا رُخ

حادثہ کوئی سرِ دست نہ ہونے دوں گا

اس کی یادوں سے سجاؤں گا میں اپنی دنیا

ہجر میں خود کو تہی دست نہ ہونے دوں گا

Sunday, 14 March 2021

ہم کو سردی سے ڈر نہیں لگتا

 ہم کو سردی سے ڈر نہیں لگتا

کوہ نوردی سے ڈر نہیں لگتا

اب محبت سے خوف آتا ہے

غنڈہ گردی سے ڈر نہیں لگتا 

دل کو دھڑکا ہے سادہ کـپڑوں کا 

خاکی وردی سے ڈر نہیں لگتا