عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت جن شاعروں کا خاصہ ہے
اُن سے سرکارﷺ خود شناسا ہے
تیری چاہت مجھے بچا لے گی
گو مقدر مِرا بُرا سا ہے
اک مسلسل سفر تِری جانب
زندگی کا یہی خلاصہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت جن شاعروں کا خاصہ ہے
اُن سے سرکارﷺ خود شناسا ہے
تیری چاہت مجھے بچا لے گی
گو مقدر مِرا بُرا سا ہے
اک مسلسل سفر تِری جانب
زندگی کا یہی خلاصہ ہے
ہم مر رہے تھے، لوگ کھڑے دکھتے رہے
سب رشتہ دار ضِـد پہ اڑے دیکھتے رہے
تھی اتنی بے بسی کہ کڑے امتحان سے
بچے گزر رہے تھے، بڑے دیکھتے رہے
ہر بار وہ بدل کے گزرتا تھا راستہ
ہم کتنے راستوں میں پڑے دیکھتے رہے
پدم کے آخری ہیرو محمد امین سندوس کے نام (نوحہ)
پدم کے ہیرو
تری جدائی پہ یاد آیا
وہ خواب تیرا
جو تھا ادھورا
وہ ہے ادھورا
ہم اُس کی تعبیر چاہتے ہیں
اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا
یہ کیسا پیار ہے جو پیار سے آگے نہیں بڑھتا
ہماری خواہشیں اظہار کی حد تک نہیں جاتیں
ہمارا حوصلہ دیدار سے آگے نہیں بڑھتا
ہماری زندگی میں ایک سُستی سی مسلسل ہے
ہمارا خون اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتا
جاؤں گا کہاں تیری کہانی سے نکل کر
ماہی ہوں میں، مر جاؤں گا پانی سے نکل کر
جب سامنے رکھتا ہوں تِری کوئی نشانی
تُو سامنے آتا ہے نشانی سے نکل کر
اب کیا ہے بڑھاپے کے سوا میرے بدن پہ
یہ کون گیا میری جوانی سے نکل کر؟
دن بھر کی مشقت سے ملا صرف دِلاسا
مزدور کی محنت کا صِلہ، صرف دلاسا
بازار میں سستا تھا فقط ایک یہ سودا
بچوں کے لیے لے کے چلا صرف دلاسا
ہمسائے کی آتی ہیں صدائیں مِرے گھر تک
دیتا ہے غریبوں کو خدا؛ صرف دلاسا
حوصلہ پیار میں اب پست نہ ہونے دوں گا
پشت پر تیر میں پیوست نہ ہونے دوں گا
جان پر کھیل کے روکوں میں سیلاب کا رُخ
حادثہ کوئی سرِ دست نہ ہونے دوں گا
اس کی یادوں سے سجاؤں گا میں اپنی دنیا
ہجر میں خود کو تہی دست نہ ہونے دوں گا
ہم کو سردی سے ڈر نہیں لگتا
کوہ نوردی سے ڈر نہیں لگتا
اب محبت سے خوف آتا ہے
غنڈہ گردی سے ڈر نہیں لگتا
دل کو دھڑکا ہے سادہ کـپڑوں کا
خاکی وردی سے ڈر نہیں لگتا