Showing posts with label ثمیر کبیر. Show all posts
Showing posts with label ثمیر کبیر. Show all posts

Wednesday, 5 November 2025

تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں

 تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں

کبھی تو ہوں گے یہ پورے اٹھا کے رکھے ہیں

تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے

تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں

یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے

سو ہم نے جگنو سنہرے اٹھا کے رکھے ہیں

Wednesday, 21 August 2024

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا

 دیکھ کر آپ کو دعا کرنا 

پھر نمازیں سبھی ادا کرنا 

عشق دیکھو کہاں پہ لے آیا 

صبر کرنا کہ التجا کرنا 

چھوڑ جاتے ہو یہ تو بتلا دو

آپ کے بعد ہم نے کیا کرنا

Saturday, 17 August 2024

ہر اک منظر وہیں ٹھہرا لگے گا

 ہر اک منظر وہیں ٹھہرا لگے گا

کبھی دریا کبھی صحرا لگے گا

ہوائیں لے اُڑے گی خوشبوؤں کو

تِرے دامن میں بس کانٹا لگے گا

کتابیں پھینک دو دریا میں ساری

پڑھو گے خُود کو تو اچھا لگے گا