تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں
کبھی تو ہوں گے یہ پورے اٹھا کے رکھے ہیں
تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے
تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں
یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے
سو ہم نے جگنو سنہرے اٹھا کے رکھے ہیں
تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں
کبھی تو ہوں گے یہ پورے اٹھا کے رکھے ہیں
تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے
تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں
یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے
سو ہم نے جگنو سنہرے اٹھا کے رکھے ہیں
دیکھ کر آپ کو دعا کرنا
پھر نمازیں سبھی ادا کرنا
عشق دیکھو کہاں پہ لے آیا
صبر کرنا کہ التجا کرنا
چھوڑ جاتے ہو یہ تو بتلا دو
آپ کے بعد ہم نے کیا کرنا
ہر اک منظر وہیں ٹھہرا لگے گا
کبھی دریا کبھی صحرا لگے گا
ہوائیں لے اُڑے گی خوشبوؤں کو
تِرے دامن میں بس کانٹا لگے گا
کتابیں پھینک دو دریا میں ساری
پڑھو گے خُود کو تو اچھا لگے گا