ہمیں بھی ہیں فنون جنگ یہ جلنا بھی جلانا بھی
مگر رکھتے ہیں ہم دستور ملنا بھی ملانا بھی
کوئی سیکھے نظر سے کس طرح سب کو نچاتے ہیں
وہ اک پل میں نظر میں ان کی اٹھنا بھی گرانا بھی
چلو اک شام مے خانے یہی ارمان ہے مجھ کو
وہاں جی بھر کے میرے ساتھ پینا بھی پلانا بھی
منافق اس طرح میری نظر سے گر ہی جاتے ہیں
میں اکثر دیکھتا ہوں ان کا اٹھنا بھی بٹھانا بھی
نہ رہنا بھول میں تم چھوڑ کر ہم تو نہیں جاتے
کیا ہے عشق تو آتا ہے کرنا بھی نبھانا بھی
چلو اک کھیل کھیلیں گئے جو جیتے گا ہسائے گا
مگر تم ہار بھی جاؤ تو ہسنا بھی ہسانا بھی
کسی کو راس آتا ہے یہ فن مخفل لگانے کا
یہ اہل ذوق کو بھاتا ہے سننا بھی سنانا بھی
دانیال شبیر
No comments:
Post a Comment