Sunday, 7 June 2026

ہمیں بھی ہیں فنون جنگ یہ جلنا بھی جلانا بھی

 ہمیں بھی ہیں فنون جنگ یہ جلنا بھی جلانا بھی

مگر رکھتے ہیں ہم دستور ملنا بھی ملانا بھی

کوئی سیکھے نظر سے کس طرح سب کو نچاتے  ہیں 

وہ اک پل میں نظر میں ان کی اٹھنا بھی گرانا بھی

چلو اک شام مے خانے یہی ارمان ہے مجھ کو

وہاں جی بھر کے میرے ساتھ پینا بھی پلانا بھی

منافق اس طرح میری نظر سے گر ہی جاتے ہیں

میں اکثر دیکھتا ہوں ان کا اٹھنا بھی بٹھانا بھی

نہ رہنا بھول میں تم چھوڑ کر ہم تو نہیں جاتے

کیا ہے عشق تو آتا ہے کرنا بھی نبھانا بھی

چلو اک کھیل کھیلیں گئے جو جیتے گا ہسائے گا 

مگر تم ہار بھی جاؤ تو ہسنا بھی ہسانا بھی

کسی کو راس آتا ہے یہ فن مخفل لگانے کا

یہ اہل ذوق کو بھاتا ہے سننا بھی سنانا بھی


دانیال شبیر

No comments:

Post a Comment