Wednesday, 10 June 2026

جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

 جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا

آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب

وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا

میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا

بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا

حال کے ماتم سرا ہیں ہم نہ ماضی کے نقیب

اپنا مستقبل مگر پرچھائیوں میں کھو گیا

پتھروں کے ڈھیر پر رکھ کر چلی آئی اسے

مامتا کا درد کیوں رُسوائیوں میں کھو گیا

اپنے آنچل سے کوئی پرچم بنا پائی نہ وہ

جذبۂ بے اختیار انگنائیوں میں کھو گیا

شام سے پہلے سمیٹی زرد پتوں نے بساط

موسموں کا درد ان رعنائیوں میں کھو گیا


انیس سلطانہ

No comments:

Post a Comment