Showing posts with label انیس انصاری. Show all posts
Showing posts with label انیس انصاری. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں

 میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں

سمندر دیکھ تیرا ہو گیا ہوں

بجز اک نام کہتا ہوں نہ سنتا

میں ایسا گونگا بہرا ہو گیا ہوں

تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں

میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں

Wednesday, 27 April 2022

جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

 جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے

خدا آزاد تھا حاکم کی حد سے

خدا کے شہر میں سرکار کیوں ہے

بہت آسان ہے مل جل کے بہنا

ندی اور دھار میں پیکار کیوں ہے

Tuesday, 26 April 2022

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستمگر باقی

 نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی

اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو

نوکِ نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی

تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں

غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی

Monday, 25 April 2022

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

 پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

ساری رات تمہاری خاطر میں نے زہر پیا جانم

سورج کی مانند بنا ہوں ریزہ ریزہ بکھرا ہوں

اب جیون کا سر چشمہ ہوں ویسے خوب جلا جانم

تم نے مجھ میں جو کچھ کھویا اس کی قیمت تم جانو

میں نے تم سے جو کچھ پایا ہے وہ بیش بہا جانم

Sunday, 24 April 2022

بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ

 بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ

اگرچہ مہرباں ہے وہ بڑا آزار جاں ہے وہ

مثال آسماں ہے وہ مجھے زرخیز کرتا ہے

مجھے زرخیز کرتا ہے مثال آسماں ہے وہ

کریم و سائباں ہے وہ مجھے محفوظ رکھتا ہے

مجھے محفوظ رکھتا ہے کریم و سائباں ہے وہ

Sunday, 27 February 2022

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

ظرف میں کاسۂ درویش سمندر نکلا

کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو

تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا

مشکلیں آتی ہیں آنے دو، گزر جائیں گی

لوگ یہ دیکھیں کہ کمزور دلاور نکلا