میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں
سمندر دیکھ تیرا ہو گیا ہوں
بجز اک نام کہتا ہوں نہ سنتا
میں ایسا گونگا بہرا ہو گیا ہوں
تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں
میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں
میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں
سمندر دیکھ تیرا ہو گیا ہوں
بجز اک نام کہتا ہوں نہ سنتا
میں ایسا گونگا بہرا ہو گیا ہوں
تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں
میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں
جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے
الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے
خدا آزاد تھا حاکم کی حد سے
خدا کے شہر میں سرکار کیوں ہے
بہت آسان ہے مل جل کے بہنا
ندی اور دھار میں پیکار کیوں ہے
نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی
جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی
اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو
نوکِ نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی
تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں
غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی
پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم
ساری رات تمہاری خاطر میں نے زہر پیا جانم
سورج کی مانند بنا ہوں ریزہ ریزہ بکھرا ہوں
اب جیون کا سر چشمہ ہوں ویسے خوب جلا جانم
تم نے مجھ میں جو کچھ کھویا اس کی قیمت تم جانو
میں نے تم سے جو کچھ پایا ہے وہ بیش بہا جانم
بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ
اگرچہ مہرباں ہے وہ بڑا آزار جاں ہے وہ
مثال آسماں ہے وہ مجھے زرخیز کرتا ہے
مجھے زرخیز کرتا ہے مثال آسماں ہے وہ
کریم و سائباں ہے وہ مجھے محفوظ رکھتا ہے
مجھے محفوظ رکھتا ہے کریم و سائباں ہے وہ
جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا
ظرف میں کاسۂ درویش سمندر نکلا
کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو
تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا
مشکلیں آتی ہیں آنے دو، گزر جائیں گی
لوگ یہ دیکھیں کہ کمزور دلاور نکلا