اسی طريق سے پھر شش جِہات جوڑتے ہيں
چلو یہ ٹُوٹی ہوئی کائنات جوڑتے ہيں
چلو لگاتے ہيں مخمل ميں ٹاٹ کا پيوند
چلو يہ ارض و سما ساتھ ساتھ جوڑتے ہيں
يہ لوگ پيسے سے پيسہ مِلا کے رکھتے ہيں
ہم ايسے وحشی تو بس پات پات جوڑتے ہيں
ہر چیز کو شُمار و عدد سے نہیں بڑھا
قیمت وفا کی داد و ستد سے نہیں بڑھا
چُھوتا ہوں آسماں کو تو حیرت ہی اس میں کیا
میرا تو قد یہی ہے، میں قد سے نہیں بڑھا
میرے لیے بنائی ہے اس نے یہ کائنات
تارے بھی توڑ لوں تو میں حد سے نہیں بڑھا
شکستِ ذات سے فریاد کر کے رو پڑا ہوں
میں مدت بعد اس کو یاد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے تنہائی کے آسیب سے ڈر لگ رہا تھا
میں سمجھوتہ تمہارے بعد کر کے رو پڑا ہوں
کسے معلوم ہے اندر سے میں کتنا دکھی ہوں
فسُردہ انجمن کو شاد کر کے رو پڑا ہوں