Showing posts with label ابرار سالک. Show all posts
Showing posts with label ابرار سالک. Show all posts

Saturday, 24 December 2016

کرب مسلسل

کربِ مسلسل

بہت نامہرباں موسم مرے حصے میں آیا ہے
نہ چھاؤں ہے نہ پانی
مدتوں میں نے سلگتی آنچ دیتی ریت چھانی
دور تک پھیلے سرابوں کے سوا
اس دشت کی پہنائیوں نے کیا دیا مجھ کو
اور اب تو انگلیاں دانتوں میں رکھ کر

Tuesday, 13 December 2016

زندگی کرتے رہے صرف اس امید پر

زندگی کرتے رہے
صرف اس امید پر
اِس سے اگلے موڑ پر
ایک دو ہی کوس پر
بخت کا وہ پیڑ ہے
جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں
بیٹھی ہے وہ اپسرا

کبھی شکستوں کے دکھ اٹھائے تو اس سے پوچھوں

کبھی شکستوں کے دکھ اٹھائے تو اس سے پوچھوں 
وہ میری مانند ٹوٹ جائے تو اس سے پوچھوں
اسے بھی کوئی ستارہ منزل سے دور کرے 
اسے بھی رستہ نظر نہ آئے تو اس سے پوچھوں
سفر میں وہ بھی کسی کڑے امتحان سے گزرے 
اسے بھی یوں کوئی آزمائے تو اس سے پوچھوں

کسی منزل کسی امکان کا در کھولتا ہے

کسی منزل، کسی امکان کا در کھولتا ہے
اک پرندہ مرے احساس میں پر کھولتا ہے
یہ محبت ہے کہ وحشت ہے کہ شوریدہ سری
سوچتا ہوں ترے بارے میں تو سر کھولتا ہے
بھاؤ کچھ ایسے گرے ہیں کہ ڈراتا ہے کساد
کون اس شہر میں بازارِ ہنر کھولتا ہے

اگر خدا ہے خدا کا کلام زندہ ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امامِ عالی مقام

اگر خدا ہے، خدا کا کلام زندہ ہے
تو پھر یہ طے ہے کہ میرا امام زندہ ہے
غمِ حسین مٹانے سے مٹ نہیں سکتا
شعورِ اہلِ درود و سلام زندہ ہے
ہمیں تو ظلمتِ شب سے نہیں کوئی تشویش
وہ رشکِ مہر، وہ ماہِ تمام زندہ ہے

Wednesday, 9 November 2016

کوئی منزل ہے نظر ميں نہ ٹھکانہ طے ہے

کوئی منزل ہے نظر ميں نہ ٹھکانہ طے ہے 
پھر بھی کل صبح يہاں سے مِرا جانا طے ہے
ابھی کچھ اور مسائل ہيں، جو لاحق ہيں ہميں 
تجھ سے ملنے کو کوئی اور زمانہ طے ہے
کئی کردار کہانی سے نکل جاتے ہيں 
کوئی قصہ ہے مکمل، نہ فسانہ طے ہے

بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے

بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے
اپنی ہے شقاوت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو جمتے ہی نہیں فرش پہ پاؤں
اس بار تو فرصت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو کی وقت نے کچھ ایسی جراحت
زخموں کی اذیت سے زمیں کانپ رہی ہے

Wednesday, 7 October 2015

اسی طريق سے پھر شش جہات جوڑتے ہيں

اسی طريق سے پھر شش جِہات جوڑتے ہيں
چلو یہ ٹُوٹی ہوئی کائنات جوڑتے ہيں
چلو لگاتے ہيں مخمل ميں ٹاٹ کا پيوند
چلو يہ ارض و سما ساتھ ساتھ جوڑتے ہيں
يہ لوگ پيسے سے پيسہ مِلا کے رکھتے ہيں
ہم ايسے وحشی تو بس پات پات جوڑتے ہيں

ہر چیز کو شمار و عدد سے نہیں بڑھا

ہر چیز کو شُمار و عدد سے نہیں بڑھا
قیمت وفا کی داد و ستد سے نہیں بڑھا
چُھوتا ہوں آسماں کو تو حیرت ہی اس میں کیا
میرا تو قد یہی ہے، میں قد سے نہیں بڑھا
میرے لیے بنائی ہے اس نے یہ کائنات
تارے بھی توڑ لوں تو میں حد سے نہیں بڑھا

Sunday, 2 November 2014

شکست ذات سے فریاد کر کے رو پڑا ہوں

شکستِ ذات سے فریاد کر کے رو پڑا ہوں
میں مدت بعد اس کو یاد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے تنہائی کے آسیب سے ڈر لگ رہا تھا
میں سمجھوتہ تمہارے بعد کر کے رو پڑا ہوں
کسے معلوم ہے اندر سے میں کتنا دکھی ہوں
فسُردہ انجمن کو شاد کر کے رو پڑا ہوں