کربِ مسلسل
بہت نامہرباں موسم مرے حصے میں آیا ہے
نہ چھاؤں ہے نہ پانی
مدتوں میں نے سلگتی آنچ دیتی ریت چھانی
دور تک پھیلے سرابوں کے سوا
اس دشت کی پہنائیوں نے کیا دیا مجھ کو
کاٹ لیتا ہوں
کہ یوں سوکھی زباں سیراب ہو جائے
مرے اپنے لہو ہی سے سہی
لیکن بدن کی پیاس بجھ جائے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment