تو اس نے کہا یہ جام دیکھ
مئے ارغوان سے بھرا ہوا یہ جام دیکھ
یہ شام دیکھ! چمپئی کھلی کھلی
موتیے کے ہار میں چاندنی گندھی ہوئی
اور چاندنی بھی اس طرح گندھی ہوئی
کہ بام پر ندی کوئی چڑھی ہوئی
ندی بھی گویا حلب کی مٹھاس میں رچی ہوئی
تو اس نے کہا یہ جام دیکھ
مئے ارغوان سے بھرا ہوا یہ جام دیکھ
یہ شام دیکھ! چمپئی کھلی کھلی
موتیے کے ہار میں چاندنی گندھی ہوئی
اور چاندنی بھی اس طرح گندھی ہوئی
کہ بام پر ندی کوئی چڑھی ہوئی
ندی بھی گویا حلب کی مٹھاس میں رچی ہوئی
مریخ زادوں کو خبر پہنچے
زنان زہرہ کی خواب گاہوں میں کھلنے والے ضیا کے دفتر سمٹ رہے ہیں
کہ ان کے رحموں میں سبز رنگت کی زندگی کو جگانے والا کوئی نہیں ہے
وہ زہرہ زادی جو نوری سالوں کی اک صدی سے
حمل کی چاہ میں پگھل رہی ہے، وہ منتظر ہے کہ کوئی آئے
اور اس کی سُوکھے شکم میں اپنی بقا کے خلیوں کا سحر پھونکے
دوزخی عورتیں
آگ کی چادروں میں لپیٹی ہوئی دوزخی عورتیں
عورتیں! جن کے پہلو بہزاد کی انگلیوں سے تراشے گئے
جن کے سینوں و کولہوں نے پیدا کئے اینجلو
دوزخی عورتیں جو سدا اہل ایمان کی آزمائش رہیں
عورتیں! جن کے ہونٹوں نے چکھا ہے انکار کا ذائقہ
عورتیں! جن کی ہر اک ادا ابن آدم کی تائید سے ماورا
ڈائن
کائی پیڑوں کو کھا گئی ہے
زمیں پہ بکھرے ہوئے یہ پنجر
بتا رہے ہیں پتہ کسی کا
اندھا کنواں شہر سے باہر
کیسے کیسے جوان رعنا نگل گیا
کوئی باقی بچا نہیں ہے
بوجھ بجھاری
لال گگن میں نیلا تارہ
اور گلابی کرنیں تھیں
اس تارے کے اک کونے پر
پیلے پھول کی بند پتیوں میں
خاک کا قالب سویا تھا
اے کرمک شب کور
ذرا دیکھ تو وہ زلف سیاہ
برف زاروں میں زنگیوں کی سپاہ
رخ روشن کی حِدتوں کی گواہ
شعلہ و برق کی سسکی، انگاروں کی آہ
لذت چشیدہ جام مئے ناب ذرا
دیکھ وہ لب کہ ہیں لالہ و گلفام کی چاہ
میں نے کائنات کو تشکیل پاتے دیکھا
جب زمیں و زماں کی سبھی وسعتیں
میرے ہونے کے دم سے بھری تھیں تو تب
میرے آدھے بدن میں نے دیکھا تمہیں
میری روح کے کواڑوں پہ دستک تیری چیختی تھی
تو بام فلک پہ تبھی گونجتا تھا کہیں کن کا حرف امر