Showing posts with label ناز دہلوی. Show all posts
Showing posts with label ناز دہلوی. Show all posts

Friday, 28 August 2020

دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر

دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہِ کامل دیکھ کر

زرد ہو جاتی ہے جس کو شمعِ محفل دیکھ کر

تیرے عارض پہ یہ نقطہ بھی ہے کتنا انتخاب

ہو گیا روشن تِرے رخسار کا تِل دیکھ کر

آئینے نے کر دیا یکتائی کا دعویٰ غلط

نقشِ حیرت بن گئے اپنا مقابل دیکھ کر 

کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں

کچھ اشارے وہ سرِ بزم جو کر جاتے ہیں

ناوکِ ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں

اہلِ دل راہِ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں

نام لیوا تِرے بے خوف و خطر جاتے ہیں

سفرِ زیست ہوا ختم نہ سوچا، لیکن

ہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں

کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ

کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ

دیدۂ حق بِیں سے رنگِ عالمِ تصویر دیکھ

اس قدر کھنچنا نہیں اچھا بتِ بے پیر دیکھ

پیار کی نظروں سے سُوئے عاشقِ دلگیر

کام بن بن کر بگڑ جاتے ہیں لاکھوں رات دن

کس قدر ہے مجھ سے برگشتہ مِری تقدیر دیکھ

Thursday, 27 August 2020

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

قلزمِ الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

جو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا، برہم ہوا

تھامنا مشکل دلِ مضطر کو شامِ غم ہوا

یاد آتے ہی کسی کی، حشر کا عالم ہوا

کیا بتائیں کس طرح گزری شبِ وعدہ مِری

منتظر آنکھیں رہیں، دل کا عجب عالم ہوا

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

وہ جھنکار پیدا ہے تارِ نفس میں

کہ ہے نغمہ نغمہ مِری دسترس میں

تصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے

چمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں

گلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں

ابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں؟

زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے

زلف جاناں پہ طبیعت مِری لہرائی ہے

سانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہے

آج مے خانے پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے

ایک دنیا ہے کہ پینے کو امڈ آئی ہے

زلفِ شب رنگ کا عکس یہ پیمانے میں

یا پری کوئی یہ شیشے میں اتر آئی ہے

Wednesday, 20 April 2016

دم آخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

دمِ آخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

جہاں سے اٹھ گئے اہلِ جہاں سے کچھ نہ کہا

چلی جو کشتئ عمرِ رواں تو چلنے دی

رکی تو کشتئ عمرِ رواں سے کچھ نہ کہا

خطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی

بدل کے رہ گئے تیور، زباں سے کچھ نہ کہا

زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

چلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہے

سیر دنیا کی، نہ کچھ یاد خدا ہوتی ہے

عمر انہی جھگڑوں میں تاراج فنا ہوتی ہے

روح جب قالبِ خاکی سے جدا ہوتی ہے

کس کو معلوم، کہاں جاتی ہے، کیا ہوتی ہے

Monday, 18 April 2016

سنوارے ہے گیسو تو دیکھا کرے ہے

سنوارے ہے گیسو تو دیکھا کرے ہے

وہ اب دل کو آئینہ جانا کرے ہے

نہ باتیں کرے ہے نہ دیکھا کرے ہے

مگر میرے بار میں سوچا کرے ہے

محبت سے وہ دشمنی ہے کہ دنیا

ہوا بھی لگے ہے تو چرچا کرے ہے

اک آتی ہے منزل کہ ہر حسن والا

تمنائیوں کی تمنا کرے ہے

وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

وہ حد سے دُور ہوتے جا رہے ہیں

بڑے مغرُور ہوتے جا رہے ہیں

بسے ہیں جب سے وہ میری نظر میں

سراپا نُور ہوتے جا رہے ہیں

جو پھوٹے آبلے دل کی خلش سے

وہ اب ناسُور ہوتے جا رہے ہیں