Showing posts with label ظفر کلیم. Show all posts
Showing posts with label ظفر کلیم. Show all posts

Wednesday, 17 May 2023

سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں

 سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں

جتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میں

میرے ہی دم قدم سے ہیں قائم یہ نغمہ خوانیاں

گلزار ہست و بود کا طوطیٔ خوش بیاں ہوں میں

مجھ ہی میں ضم ہیں جان لے دریا تمام دہر کے

قطرہ نہ تو مجھے سمجھ اک بحر بیکراں ہوں میں

Tuesday, 3 May 2022

بخت جاگے تو جہاندیدہ سی ہو جاتی ہے

 بخت جاگے تو جہاندیدہ سی ہو جاتی ہے

شخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہے

گو ہمہ وقت نئی لگتی ہے دنیا، لیکن

شے پرانی ہو تو بوسیدہ سی ہو جاتی ہے

کون ہے وہ کہ جسے موند لوں آنکھیں دیکھوں

آنکھ کھل جائے تو پوشیدہ سی ہو جاتی ہے

Saturday, 19 February 2022

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

 ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

میری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوں

آئے گا اک دن مِرے اڑنے کا موسم آئے گا

بس اسی امید پر میں اپنے بال و پر میں ہوں

جسم کی رعنائیوں میں ڈھونڈتے ہو تم مجھے

اور میں کب سے تمہاری روح کے پیکر میں ہوں

Saturday, 9 October 2021

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا

 کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کُھلا

اپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلا

قتل سے پہلے ذرا چیخوں پہ اک مقتول کی

کچھ دریچے تو کُھلے لیکن نہ کوئی در کھلا

تنگ ہو جائے زمیں بھی اب تو کوئی غم نہیں

ہم فقیروں کے لیے ہے آسماں سر پر کھلا

Tuesday, 7 September 2021

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

 ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا

اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں

ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا

جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی

زندگی کرنا ہے انگاروں پہ چل کر دیکھنا

Sunday, 9 May 2021

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا

 گمان تک میں نہ تھا محوِ یاس کر دے گا

وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اُداس کر دے گا

کرم کرے گا مِرے حال پر، مگر پہلے

شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا

شگفتگئ چمن پر بہت غرور نہ کر

خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا

Saturday, 8 May 2021

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

 گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

ہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئے

ہم نے کھُلے کواڑ پہ دستک سنی، مگر

وہ کون لوگ تھے کہ جو آ کر پلٹ گئے

در بند ہی رکھو کہ ہواؤں کا زور ہے

اب کے کھُلے کواڑ تو سمجھو کہ پٹ گئے

بات مہندی سے لہو تک آ گئی

 بات مہندی سے لہو تک آ گئی

گفتگو اب تم سے تُو تک آ گئی

اب وہ شغلِ چاک دامانی کہاں

اب طبیعت تو رفُو تک آ گئی

جان جائے یار ہے اب ڈر نہیں

بات اپنی آبرو تک آ گئی

Thursday, 22 April 2021

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

 کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

ایسے بھی تم خواب نہ دیکھو

ڈُوب رہے سورج میں یارو

دن کی آب و تاب نہ دیکھو

ہرجائی ہیں لوگ یہاں کے

اس بستی کے خواب نہ دیکھو

Sunday, 28 March 2021

پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا

 پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا

لیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گا

حالات جب بھی شہر کے فلمائے جائیں گے

پردے پہ میرے قتل کا منظر بھی آئے گا

بے چہرہ پھر رہا ہوں مگر اس یقیں کے ساتھ

آئینہ میرے قد کے برابر بھی آئے گا