Tuesday, 7 September 2021

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

 ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا

اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں

ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا

جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی

زندگی کرنا ہے انگاروں پہ چل کر دیکھنا

اپنے مخلص دوستوں پر وار میں کیسے کروں

کوئی دشمن سامنے آئے تو جوہر دیکھنا

پیاس ہونٹوں پر لیے بیٹھا ہوں ساحل پر مگر

ضد پہ آ جاؤں تو کوزے میں سمندر دیکھنا

کھڑکیاں کھلتے ہی ہم ہوں گے نشانہ وقت کا

زخم سینے پر سجانا ہو تو باہر دیکھنا

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں ہے گردش وقت کی

میری قسمت ہی میں لکھا تھا یہ چکر دیکھنا

زندگی بھر ٹھوکریں کھانے سے بہتر ہے ظفر

راستہ چلتے ہوئے رستے کے پتھر دیکھنا


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment