Tuesday, 7 September 2021

میں ہوں اک دریائے فانی میں رواں

 میں ہوں اک دریائے فانی میں رواں

بے خس و خاشاک پانی میں رواں

مجھ پہ چلتا ہے تمہارا اختیار

ہوں تمہاری ہی کہانی میں رواں

میں کھٹکتا ہوں بہت سُوں کو بہت

جب سے ہوں اپنی روانی میں رواں

اب نہیں لگتا کنارے لگ سکیں

لوگ ہیں جس بے کرانی میں رواں

ہے وہ نوحہ ایک اُجڑے شہر کا

ہے چمن جس نغمہ خوانی میں رواں

ہے نظامِ کوچۂ بے داد گر

مدتوں سے کھینچا تانی میں رواں

منزلیں میرا نہیں ہیں مسئلہ

میں ہوں راہِ لامکانی میں رواں

کیا خبر مجھ کو کہ تُو ہے سامنے

میں ہوں اپنی بے دھیانی میں رواں

تھی توانائی ہماری بے مثال

ہم بھی تھے نامی جوانی میں رواں


رستم نامی

No comments:

Post a Comment