Showing posts with label فرح رضوی. Show all posts
Showing posts with label فرح رضوی. Show all posts

Wednesday, 10 January 2024

چمکا نگین درد بدن پاک ہو گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چمکا نگینِ درد ،بدن پاک ہو گیا

اشکِ عزاء ستارۂ افلاک ہو گیا

سُن کر وہ استغاثۂ دلبندِ مصطفیٰؐ

قبرِ رسولؐ کانپی، کفن چاک ہو گیا 

اک دشتِ کربلا کو معلّیٰ کی ہے سند 

باطل کا نام جیسے خس و خاک ہو گیا

Thursday, 19 August 2021

حسرت کے داغ دست طلب سے نہیں دھلے

 حسرت کے داغ دستِ طلب سے نہیں دُھلے

بھاری تھے خواب آنکھ سے پورے نہیں تُلے

چکر بندھا تھا پاؤں میں قسمت کے پھیر کا

گرد سفر کے بند ابھی تک نہیں دُھلے

اشکوں کے ذائقے میں نمک رہ گیا ہے کم

رنج و ملال ٹھیک طرح سے نہیں گُھلے

Thursday, 29 July 2021

روگ جی جان کو لگایا ہوا

 روگ جی جان کو لگایا ہُوا

زنگ اوسان کو لگایا ہوا

ایک اٹکا ہوا ہے پنجرے میں

ایک پر، دھیان کو لگایا ہوا

چکھ یہ مہکا ہوا قوامِ خیال

شام کے پان کو لگایا ہوا

Monday, 12 July 2021

چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے

 چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے

خوشی کو گیت میسر نہیں زمانے سے

سکوت ایسا ثمر بار تو کبھی نہ ہوا

گل ملال جھڑا اب کے شاخسانے سے

تمہارا قُرب ہتھیلی پہ ریت جیسا ہے

ہوا کے ساتھ بکھرتا ہے اک بہانے سے

دل واہموں کے خواب کے پیچھے نہیں گیا

 دل واہموں کے خواب کے پیچھے نہیں گیا

سیراب تھا، سراب کے پیچھے نہیں گیا

بے چہرگی عزیز مگر خال و خد کا غم

داغِ جگر نقاب کے پیچھے نہیں گیا

رد و قبول میں بھی قناعت پسند تھا

حسنِ طلب جواب کے پیچھے نہیں گیا

Saturday, 10 July 2021

پھر سے درپیش سفر کا قصہ

 پھر سے در پیش سفر کا قصہ

ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا قصہ

ہم نے تعویذ کی صورت باندھا

دل سے نکلے ہوئے ڈر کا قصہ

گوشۂ چشم کا جلتے رہنا

خشک ہوتے ہوئے تر کا قصہ

Saturday, 17 April 2021

سکوت گریہ و ہنگام شب کے بیچ کہیں

 سکوتِ گریہ و ہنگامِ شب کے بیچ کہیں

دعا سفر میں رسد اور طلب کے بیچ کہیں

ادا کے ناز نہ اٹھے تو بانکپن سے گئی

انا کے غیظ سے لپٹی، غضب کے بیچ کہیں

دکھائی دیتا ہے ہر جا پہ آدمی کا چلن

نسب کے ساتھ نمایاں، حسب کے بیچ کہیں

Friday, 26 February 2021

جس دم خیال یار کی بے چہرگی گئی

 جس دم خیالِ یار کی بے چہرگی گئی

آئینۂ فراق سے بے رونقی گئی

بیٹھا غبارِ حسرتِ تعمیر اب کی بار

شوقِ سفر کی راہ میں آوارگی گئی

وحشت ہمارے ضبط کا اجڑا مزار ہے

لاکھوں جتن کیے نہ سراسیمگی گئی