عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چمکا نگینِ درد ،بدن پاک ہو گیا
اشکِ عزاء ستارۂ افلاک ہو گیا
سُن کر وہ استغاثۂ دلبندِ مصطفیٰؐ
قبرِ رسولؐ کانپی، کفن چاک ہو گیا
اک دشتِ کربلا کو معلّیٰ کی ہے سند
باطل کا نام جیسے خس و خاک ہو گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چمکا نگینِ درد ،بدن پاک ہو گیا
اشکِ عزاء ستارۂ افلاک ہو گیا
سُن کر وہ استغاثۂ دلبندِ مصطفیٰؐ
قبرِ رسولؐ کانپی، کفن چاک ہو گیا
اک دشتِ کربلا کو معلّیٰ کی ہے سند
باطل کا نام جیسے خس و خاک ہو گیا
حسرت کے داغ دستِ طلب سے نہیں دُھلے
بھاری تھے خواب آنکھ سے پورے نہیں تُلے
چکر بندھا تھا پاؤں میں قسمت کے پھیر کا
گرد سفر کے بند ابھی تک نہیں دُھلے
اشکوں کے ذائقے میں نمک رہ گیا ہے کم
رنج و ملال ٹھیک طرح سے نہیں گُھلے
روگ جی جان کو لگایا ہُوا
زنگ اوسان کو لگایا ہوا
ایک اٹکا ہوا ہے پنجرے میں
ایک پر، دھیان کو لگایا ہوا
چکھ یہ مہکا ہوا قوامِ خیال
شام کے پان کو لگایا ہوا
چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے
خوشی کو گیت میسر نہیں زمانے سے
سکوت ایسا ثمر بار تو کبھی نہ ہوا
گل ملال جھڑا اب کے شاخسانے سے
تمہارا قُرب ہتھیلی پہ ریت جیسا ہے
ہوا کے ساتھ بکھرتا ہے اک بہانے سے
دل واہموں کے خواب کے پیچھے نہیں گیا
سیراب تھا، سراب کے پیچھے نہیں گیا
بے چہرگی عزیز مگر خال و خد کا غم
داغِ جگر نقاب کے پیچھے نہیں گیا
رد و قبول میں بھی قناعت پسند تھا
حسنِ طلب جواب کے پیچھے نہیں گیا
پھر سے در پیش سفر کا قصہ
ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا قصہ
ہم نے تعویذ کی صورت باندھا
دل سے نکلے ہوئے ڈر کا قصہ
گوشۂ چشم کا جلتے رہنا
خشک ہوتے ہوئے تر کا قصہ
سکوتِ گریہ و ہنگامِ شب کے بیچ کہیں
دعا سفر میں رسد اور طلب کے بیچ کہیں
ادا کے ناز نہ اٹھے تو بانکپن سے گئی
انا کے غیظ سے لپٹی، غضب کے بیچ کہیں
دکھائی دیتا ہے ہر جا پہ آدمی کا چلن
نسب کے ساتھ نمایاں، حسب کے بیچ کہیں
جس دم خیالِ یار کی بے چہرگی گئی
آئینۂ فراق سے بے رونقی گئی
بیٹھا غبارِ حسرتِ تعمیر اب کی بار
شوقِ سفر کی راہ میں آوارگی گئی
وحشت ہمارے ضبط کا اجڑا مزار ہے
لاکھوں جتن کیے نہ سراسیمگی گئی