Saturday, 10 July 2021

پھر سے درپیش سفر کا قصہ

 پھر سے در پیش سفر کا قصہ

ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا قصہ

ہم نے تعویذ کی صورت باندھا

دل سے نکلے ہوئے ڈر کا قصہ

گوشۂ چشم کا جلتے رہنا

خشک ہوتے ہوئے تر کا قصہ

خیر نے بانجھ زمینوں پہ لکھا

لہلہاتے ہوئے شر کا قصہ

پھیلتے پھیلتے کیسا پھیلا

بے گھری تیری خبر کا قصہ

بیج کو خاک نمو تو بخشے

کھلتا جائے گا شجر کا قصہ


فرح رضوی

No comments:

Post a Comment