Saturday, 10 July 2021

کسی کے ہجر میں جل کر جیا ہوں

 کسی کے ہجر میں جل کر جیا ہوں

میں اک عرصہ اذیت میں رہا ہوں

یہ دنیا وہ خرابہ ہے جہاں میں

کوئی دم سانس لینے کو رکا ہوں

میں سطحِ آب پر مثلِ سفینہ

بس اپنی موج میں بہتا گیا ہوں

طنابیں کٹ چکی ہیں جسم و جاں کی

میں پھر بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہوں

تُو کن ہاتھوں کی ریکھا سے جڑی ہے

میں کن آنکھوں کی قسمت میں لکھا ہوں

ہوں قفلِ بے کلید اور دوست وہ بھی

کسی دروازۂ مکتون کا ہوں

مقفل ہو چکے سب در مگر میں

فصیلِ شہر سے باہر کھڑا ہوں

تُو مہر و ماہ کی ہمزاد اور میں

چراغِ حجرۂ درویش سا ہوں


ذیشان مرتضیٰ

No comments:

Post a Comment