کسی کے ہجر میں جل کر جیا ہوں
میں اک عرصہ اذیت میں رہا ہوں
یہ دنیا وہ خرابہ ہے جہاں میں
کوئی دم سانس لینے کو رکا ہوں
میں سطحِ آب پر مثلِ سفینہ
بس اپنی موج میں بہتا گیا ہوں
طنابیں کٹ چکی ہیں جسم و جاں کی
میں پھر بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہوں
تُو کن ہاتھوں کی ریکھا سے جڑی ہے
میں کن آنکھوں کی قسمت میں لکھا ہوں
ہوں قفلِ بے کلید اور دوست وہ بھی
کسی دروازۂ مکتون کا ہوں
مقفل ہو چکے سب در مگر میں
فصیلِ شہر سے باہر کھڑا ہوں
تُو مہر و ماہ کی ہمزاد اور میں
چراغِ حجرۂ درویش سا ہوں
ذیشان مرتضیٰ
No comments:
Post a Comment