مرتا مرتا جگ مؤا، موئے نہ جاناں کوئی
داس کبیرا یوں مؤا جیوں بوہر نہ مرنا کوئی
جیون تے مریو بھلی، جو مری جانے کوئی
مرنے پہلے جو مرے، تو کل اکرادر ہوئی
کبیر سو دھن سینچیے، جو آگے کو ہوئی
سیس چڑھائے پوٹلی، لے جات نہ دیکھیا کوئی
مرتا مرتا جگ مؤا، موئے نہ جاناں کوئی
داس کبیرا یوں مؤا جیوں بوہر نہ مرنا کوئی
جیون تے مریو بھلی، جو مری جانے کوئی
مرنے پہلے جو مرے، تو کل اکرادر ہوئی
کبیر سو دھن سینچیے، جو آگے کو ہوئی
سیس چڑھائے پوٹلی، لے جات نہ دیکھیا کوئی
کبیر بادل پریم کا، ہم پر برکھیا آئی
انتر بھیگی آتما، ہری بھئی بن رائی
حیرت حیرت ہے سکھی، رہا کبیر حرائی
بوند سمائی سمند میں، سو کت تیری جائی
تن بھیتر من مانیاں، باہر کتہوں نہ جائی
جوالا تے پھر جل بھیا، بجھی بلنتی لائی
کبیر دھاگہ پریم کا مت توڑو جھٹکائے
ٹُوٹے تو پھر نہ جُڑے، جُڑے تو گانٹھ پڑ جائے
سُکھ کے ماتھے سِل پڑے جو نام ہردے سی جائے
بلہاری میں دُکھ کے جو پل پل نام رٹائے
سائیں! اتنا دیجئے جا میں کُٹمب سمائے
میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے
کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس
دو نیناں مت کھائیو، انہیں پیا ملن کی آس
آج کہ کال کہ پچے دن، جنگل ہوئے گا باس
اوپر اوپر پھریں گے، ڈھور چرتے گھاس
پنجر پریم پرکاسیا، انتر بھیا جاس
مکھ کستوری مہکہی، بانی پھوٹی باس
سادھو کی عظمت
آج کہے کل بھجوں گا، کال کہے پھر کال
آج کال کے کرت ہی، او سر جاسی چال
کبیرا سنگت سادھ کی، بیگ کریجے جائی
دُرمت دور گنوائی کے، دے سی سُمت بتائی
سینہوں کے لہنڈے نہیں، ہنسوں کی نہیں پات
لعلوں کی نہیں بوریاں، سادھ نہ چلے جماعت
پریت
پریتم ایسی پریت ناں کریو جیسی کرے کھجور
دھوپ لگے تو سایہ ناہیں، بھوک لگے پھل دُور
پریت ناں کریو پنچھی جیسی جل سُوکھے اُڑ جائے
پریت تو کریو مچھلی جیسی جل سُوکھے مر جائے
پریت کبیرا! ایسی کریو جیسی کرے کپاس
جیو تو تن کو ڈھانپے مرو تو نہ چھوڑے ساتھ
کبیرا کھڑا بازار میں لیے لوکاٹھی ہات
جو گھر پھونکے اپنا چلے ہمارے سات
کہن سنن کی ہے نہیں، کہی سنی نہیں جات
اپنے جیا سے جانیو، مورے جیا کی بات
پانی کیرا بدبدا، اس مانس کی جات
دیکھت ہی چھپ جائیں گے جوں تارے پربھات
کبیر یہ گھر پریم کا خالہ کا گھر ناہیں
سیس اتارے ہاتھ کر، سو جاوے گھر ماہیں
کستوری کنڈل بسے، مرگ ڈھونڈے بن ماہیں
ایسے گھٹ گھٹ رام ہے، دنیا دیکھے ناہیں
جب میں تھا تب ہری ناہیں، اب ہری ہے میں ناہیں
سب اندھیارا مٹ گیا، جب دیپک دیکھیا ماہیں
بُرا جو دیکھن میں چلا، بُرا نہ ملیا کوئے
جو من کھوجا اپنا تو مجھ سے برا نہ کوئے
چلتی چکی دیکھ کے دیا کبیرا روئے
دوئی پاٹن کے بیج میں ثابت بچا نہ کوئے
کبیرا جب ہم پیدا ہوئے جگ ہنسے ہم روئے
ایسی کرنی کر چلو، ہم ہنسے جگ روئے
یاد
دکھ میں سمرن سب کریں، سکھ میں کرے نہ کوئے
جو سکھ میں سمرن کریں، تو دکھ کاہے ہوئے
سکھ میں سمرن نہ کیا، دکھ میں کیا یاد
کہہ کبیر تا داس کی، کون سنے فریاد
سمرن سوں من لائیے، جیسے ناد کرنگ
کہہ کبیر بسرے نہیں، پران تجے تیہی سنگ
مالا
کبیر کھڑا بزار میں مانگے سب کی خیر
نہ کہو سے دوستی، نہ کہو سے بیر
مالا پھیرتے جگ بھیا، پھرا نہ من کا پھیر
مالا کا منکا چھوڑ دے، من کا منکا پھیر
مالا تلک لگائی کے بھگتی نہ آوے ہاتھ
داڑھی مُوچھ منڈائی کے چلے دنیا کے ساتھ
اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی
اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی
اب رین کہاں جو سووت ہے
لڑکپن کھیل میں کھویا
جوانی نیند بھر سویا
بڑھاپا دیکھ کے رویا