Showing posts with label کبیر. Show all posts
Showing posts with label کبیر. Show all posts

Wednesday, 5 October 2022

مرتا مرتا جگ مؤا موئے نہ جاناں کوئی

 مرتا مرتا جگ مؤا، موئے نہ جاناں کوئی

داس کبیرا یوں مؤا جیوں بوہر نہ مرنا کوئی

جیون تے مریو بھلی، جو مری جانے کوئی

مرنے پہلے جو مرے، تو کل اکرادر ہوئی

کبیر سو دھن سینچیے، جو آگے کو ہوئی

سیس چڑھائے پوٹلی، لے جات نہ دیکھیا کوئی

Sunday, 2 October 2022

کبیر بادل پریم کا ہم پر برکھیا آئی

 کبیر بادل پریم کا، ہم پر برکھیا آئی

انتر بھیگی آتما، ہری بھئی بن رائی

حیرت حیرت ہے سکھی، رہا کبیر حرائی

بوند سمائی سمند میں، سو کت تیری جائی

تن بھیتر من مانیاں، باہر کتہوں نہ جائی

جوالا تے پھر جل بھیا، بجھی بلنتی لائی

Wednesday, 17 August 2022

کبیر دھاگہ پریم کا مت توڑو جھٹکائے

 کبیر دھاگہ پریم کا مت توڑو جھٹکائے

ٹُوٹے تو پھر نہ جُڑے، جُڑے تو گانٹھ پڑ جائے

سُکھ کے ماتھے سِل پڑے جو نام ہردے سی جائے

بلہاری میں دُکھ کے جو پل پل نام رٹائے

سائیں! اتنا دیجئے جا میں کُٹمب سمائے

میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے

Tuesday, 2 August 2022

کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس

 کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس

دو نیناں مت کھائیو، انہیں پیا ملن کی آس

آج کہ کال کہ پچے دن، جنگل ہوئے گا باس

اوپر اوپر پھریں گے، ڈھور چرتے گھاس

پنجر پریم پرکاسیا، انتر بھیا جاس

مکھ کستوری مہکہی، بانی پھوٹی باس

Sunday, 31 July 2022

آج کہے کل بھجوں گا کال کہے پھر کال

 سادھو کی عظمت


آج کہے کل بھجوں گا، کال کہے پھر کال

آج کال کے کرت ہی، او سر جاسی چال

کبیرا سنگت سادھ کی، بیگ کریجے جائی

دُرمت دور گنوائی کے، دے سی سُمت بتائی

سینہوں کے لہنڈے نہیں، ہنسوں کی نہیں پات

لعلوں کی نہیں بوریاں، سادھ نہ چلے جماعت

Thursday, 28 July 2022

پریتم ایسی پریت ناں کریو جیسی کرے کھجور

 پریت


پریتم ایسی پریت ناں کریو جیسی کرے کھجور

دھوپ لگے تو سایہ ناہیں، بھوک لگے پھل دُور

پریت ناں کریو پنچھی جیسی جل سُوکھے اُڑ جائے

پریت تو کریو مچھلی جیسی جل سُوکھے مر جائے

پریت کبیرا! ایسی کریو جیسی کرے کپاس

جیو تو تن کو ڈھانپے مرو تو نہ چھوڑے ساتھ

Tuesday, 26 July 2022

کبیرا کھڑا بازار میں لیے لوکاٹھی ہات

 کبیرا کھڑا بازار میں لیے لوکاٹھی ہات

جو گھر پھونکے اپنا چلے ہمارے سات

کہن سنن کی ہے نہیں، کہی سنی نہیں جات

اپنے جیا سے جانیو، مورے جیا کی بات

پانی کیرا بدبدا، اس مانس کی جات

دیکھت ہی چھپ جائیں گے جوں تارے پربھات

Saturday, 23 July 2022

کبیر یہ گھر پریم کا خالہ کا گھر ناہیں

 کبیر یہ گھر پریم کا خالہ کا گھر ناہیں

سیس اتارے ہاتھ کر، سو جاوے گھر ماہیں

کستوری کنڈل بسے، مرگ ڈھونڈے بن ماہیں

ایسے گھٹ گھٹ رام ہے، دنیا دیکھے ناہیں

جب میں تھا تب ہری ناہیں، اب ہری ہے میں ناہیں

سب اندھیارا مٹ گیا، جب دیپک دیکھیا ماہیں

Sunday, 17 July 2022

برا جو دیکھن میں چلا برا نہ ملیا کوئے

 بُرا جو دیکھن میں چلا، بُرا نہ ملیا کوئے

جو من کھوجا اپنا تو مجھ سے برا نہ کوئے

چلتی چکی دیکھ کے دیا کبیرا روئے

دوئی پاٹن کے بیج میں ثابت بچا نہ کوئے

کبیرا جب ہم پیدا ہوئے جگ ہنسے ہم روئے

ایسی کرنی کر چلو، ہم ہنسے جگ روئے

Thursday, 14 July 2022

دکھ میں سمرن سب کریں، سکھ میں کرے نہ کوئے

 یاد


دکھ میں سمرن سب کریں، سکھ میں کرے نہ کوئے

جو سکھ میں سمرن کریں، تو دکھ کاہے ہوئے

سکھ میں سمرن نہ کیا، دکھ میں کیا یاد

کہہ کبیر تا داس کی، کون سنے فریاد

سمرن سوں من لائیے، جیسے ناد کرنگ

کہہ کبیر بسرے نہیں، پران تجے تیہی سنگ

کبیر کھڑا بزار میں مانگے سب کی خیر

مالا


 کبیر کھڑا بزار میں مانگے سب کی خیر

نہ کہو سے دوستی، نہ کہو سے بیر

مالا پھیرتے جگ بھیا، پھرا نہ من کا پھیر

مالا کا منکا چھوڑ دے، من کا منکا پھیر

مالا تلک لگائی کے بھگتی نہ آوے ہاتھ

داڑھی مُوچھ منڈائی کے چلے دنیا کے ساتھ

Wednesday, 13 July 2022

اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی

 اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی


اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی

اب رین کہاں جو سووت ہے

لڑکپن کھیل میں کھویا

جوانی نیند بھر سویا

بڑھاپا دیکھ کے رویا

Monday, 13 January 2014

ہمن ہے عشق مستانہ ہمن کو ہوشیاری کیا

کہت کبیر

ہمن ہے عشق مستانہ، ہمن کو ہوشیاری کیا
 رہیں آزاد یا جگ سے، ہمن کو دنیا سے یاری کیا
 جو بچھڑے ہیں پیارے سے، بھٹکتے دربدر پھرتے
خلق سب نام اپنے کو بہت کر سر پٹکتا ہے
ہمن گرو نام سانچا ہے، ہمن دنیا سے یاری کیا
 ہمارا یار ہے ہم میں، ہمن کو انتظاری کیا