کل شب تیری یاد نے
کچھ ایسے دی دستک
میرے ذہن کے بند دریچوں پہ
کہ وقت کو بھی پر لگ گئے
اور میں اڑنے لگا
تیری یادوں کے سنگ
کل شب تیری یاد نے
کچھ ایسے دی دستک
میرے ذہن کے بند دریچوں پہ
کہ وقت کو بھی پر لگ گئے
اور میں اڑنے لگا
تیری یادوں کے سنگ
کچھ اس طرح
کچھ اس طرح تم روبرو آؤ میرے
کہ تمہارے سوا کچھ نہ دکھائی دے
کچھ اس طرح تم پکارو مجھے
کہ تمہارے سوا کچھ نہ سنائی دے
کچھ اس طرح تیری موجودگی کے ہوں نشاں
ٹوٹی کمر
ٹوٹی کمر لیے روز وہ بوڑھا
صبح کے آٹھ بجے
اوزار اٹھائے
گھر سے نکل پڑتا ہے
ابھی منڈی میں اسے دھکے کھانے ہیں
پھر شام کو گھر راشن بھی لانا ہے