Showing posts with label رحمان فارس. Show all posts
Showing posts with label رحمان فارس. Show all posts

Tuesday, 10 February 2026

تمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا

 تمہیں جب دیکھتا ہوں تو

مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں

تمہیں سنتا ہوں 

تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں

اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے 

تمہارا نام لیتا ہوں 

Sunday, 30 November 2025

یہی دعا ہے یہی نعت بس زیادہ نہ کم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہی دُعا ہے یہی نعت بس، زیادہ نہ کم

ہو میری عُمر تریسٹھ برس، زیادہ نہ کم

عطا ہوا تھا مجھے جتنا اِذن روضے سے

ہوا میں جالی سے اُتنا ہی مَس، زیادہ نہ کم

بس اُتنی جتنی م<را بادشہ اجازت دے

بس اُتنی دیر چلے گا نفس، زیادہ نہ کم

Monday, 10 March 2025

سامنے تھا وہ مگر دید وغیرہ نہیں کی

 سامنے تھا وہ مگر دید وغیرہ نہیں کی 

اب کے آنکھوں نے کوئی عید وغیرہ نہیں کی 

یُوں رکھا مان ہمیشہ تِرے بُہتانوں کا 

ہنس کے چُپ ہو گئے، تردید وغیرہ نہیں کی 

خیر ہو، آج طبیعت تری ناساز ہے کیا ؟

آج مجھ پر کوئی تنقید وغیرہ نہیں کی 

Tuesday, 23 January 2024

جس کا بھی محبت پر ایمان نہیں ہوتا

 جس کا بھی محبت پر ایمان نہیں ہوتا

آدم تو وہ ہوتا ہے،۔ انسان نہیں ہوتا 

خیرات دِیا کیجے، یہ رب سے تجارت ہے

اور رب سے تجارت میں نُقصان نہیں ہوتا 

دیکھا ہے اُسے چُھو کر، وہ آگ کی گُڑیا ہے 

اور آگ کو چُھو لینا آسان نہیں ہوتا 

Saturday, 29 July 2023

تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حسین کا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حسینؑ کا ہے

فُرات چھیننے والو! خدا حسینؑ کا ہے

کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو

ثباتِ رسمِ عزا معجزہ حسینؑ کا ہے

ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں

اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حسینؑ کا ہے

Friday, 28 July 2023

تم ہو معراج وفا اے کشتگان کربلا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


تم ہو معراجِ وفا، اے کشتگانِ کربلا

ورنہ، آساں تو نہیں تھا امتحانِ کربلا

ہر کہانی جس نے لکھی ہے ازل سے آج تک

وہ بھی رویا ہو گا سُن کر داستانِ کربلا

دودھ کی نہریں بھی قُرباں، حوضِ کوثر بھی نثار

اِک تمہاری پیاس پر، اے تشنگانِ کربلا

Thursday, 9 March 2023

یہ چلتی پھرتی دعاؤں کا عالمی دن ہے

 یہ چلتی پھرتی دعاؤں کا عالمی دن ہے

دعائیں لیجے کہ ماؤں کا عالمی دن ہے

جو روز صبح مُصلے سے ہو کے آتی ہیں

اُنہی خموش صداؤں کا عالمی دن ہے

تمام رنگ ہیں جن سے ہماری ہستی کے

اُنہی سفید رِداؤں کا عالمی دن ہے

Friday, 17 February 2023

وہ اور ہوں گے کہ جو دشمنوں میں مارے گئے

 وہ اور ہوں گے کہ جو دشمنوں میں مارے گئے 

کہ ہم تو اپنے خدا کے گھروں میں مارے گئے 

جو تجھ سے مانگنے آئے تھے خیریت، یارب

تِرے وہ بندے تِری مسجدوں میں مارے گئے 

یہ کوئی جنگ نہیں تھی، نماز تھی مولا 

دعا بہ لب تھے جو پہلی صفوں میں مارے گئے 

Tuesday, 13 December 2022

بیٹیوں جیسی ہے تو سو جب بڑی ہو جائے گی

 بیٹیوں جیسی ہے تُو، سو جب بڑی ہو جائے گی

اے اُداسی! کیا تِری بھی رُخصتی ہو جائے گی

ایک ہی تو شخص مانگا ہے خُدایا! دے بھی دے

کون سا تیرے خزانوں میں کمی ہو جائے گی

میری بستی میں تو تِتلی پر بھی مَر مِٹتے ہیں لوگ

تیرے آنے سے تو خلقت باؤلی ہو جائے گی

Tuesday, 9 August 2022

قائم رہے سروں پہ ردائے غم حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام


قائم رہے سروں پہ رِدائے غمِ حسینؑ

مولا نہ کوئی غم دے سوائے غمِ حسین

کچھ کہہ رہی ہے شامِ غریباں کی خامشی

رہ رہ کے آ رہی ہے صدائے غمِ حسین

اس آنکھ کو تو آنکھ نہیں، بے حسی کہو

جس آنکھ کو لہو نہ رُلائے غمِ حسین

Thursday, 14 July 2022

اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ہے

 اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ہے

مگر تِرے در پہ میرے پہلے قدم کا چرچا بھی کم نہیں ہے

ہمارا غم ملک بھر میں پھیلا ہے، کون سی آنکھ نم نہیں ہے

ہمارے بندھن کا ٹوٹ جانا، سقوطِ ڈھاکہ سے کم نہیں ہے

تُو عشق بھی ہے عقیدہ بھی ہے، میں تیری خاطر لڑوں گا سب سے

جو تجھ کو اچھا نہیں سمجھتا، مِرے لیے محترم نہیں ہے

Tuesday, 12 July 2022

اب یہاں سب کو محبت ہے میاں

 اب یہاں سب کو محبت ہے، میاں

اب میں چلتا ہوں، اجازت ہے، میاں 

عشق ہے، یہ کوئی مجبوری نہیں

دیکھ لو، جیسے سہولت ہے، میاں

میں یہاں تک تجھے لے آیا ہوں

اس سے آگے تِری ہمت ہے، میاں

Tuesday, 28 June 2022

عشق کا گر کوئی پیمانہ مقرر ہوتا

 عشق کا گر کوئی پیمانہ مقرر ہوتا

یار! میں ہی ترا دیوانہ مقرر ہوتا

روز کے لاکھوں کما لیتا میں گھر بیٹھے ہوئے

گر تِری یاد کا عوضانہ مقرر ہوتا

سلطنت ہوتی اگر گہری اُداسی کی کوئی

یہ فقیر افسرِ شاہانہ مقرر ہوتا

Friday, 24 June 2022

کوئی میرے اشک پونچھے کوئی بہلائے مجھے

 کوئی میرے اشک پونچھے، کوئی بہلائے مجھے

یوں نہ ہو لوگو! اداسی راس آ جائے مجھے

عشق نے ایسے سہانے رنگ پہنائے مجھے

گل تو گل ہیں، چاند تارے دیکھنے آئے مجھے

ربِ گِریہ بخش! تجھ کو آنسوؤں کا واسطہ

دیکھ، کافی ہو چکی، اب عشق ہو جائے مجھے

Wednesday, 15 June 2022

کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

 کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

جب جب بھی دکھ اٹھائے، مسرت عطا ہوئی

پھر قحط سے مرے ہوئے دفنا دئیے گئے

اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ہوئی

اس حکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار

ہم بزدلوں کو کفر کی ہمت عطا ہوئی

Saturday, 11 June 2022

تو حکم کر نہ جاؤں تو جو چور کی سزا

 تُو حکم کر، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا

پھر میں پلٹ کے آؤں تو جو چور کی سزا

بے خوف آ کے مِل کہ تِرے اذن کے بغیر

میں آنکھ بھی اٹھاؤں تو جو چور کی سزا

چوری کروں گا بس تِرا دل، نیند اور چین

میں اور کچھ چراؤں تو جو چور کی سزا

Thursday, 9 June 2022

کسی بھی طور بہلتا نہیں جنوں تیرا

 کسی بھی طور بہلتا نہیں جنوں تیرا

مِرے تڑپتے ہوئے دل! میں کیا کروں تیرا

دِیے جلاؤں گا، اے دوست! اپنی آنکھوں کے

تُو آئے گا تو سواگت کروں گا یوں تیرا

تُو میرے واسطے ممنوع پھل سہی، لیکن

مجھے یہ دُھن ہے کہ میں ذائقہ چکھوں تیرا

Tuesday, 7 June 2022

لعل و گہر کہاں ہیں دفینوں سے پوچھ لو

 لعل و گہر کہاں ہیں، دفینوں سے پوچھ لو

سینوں میں کافی راز ہیں، سینوں سے پوچھ لو

جھیلا ہے میں نے تین سو پینسٹھ دکھوں کا سال

چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو

قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچے گھروں کے دُکھ

تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پوچھ لو

Monday, 2 May 2022

جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو

 جس شہر میں سحر ہو، وہاں شب بسر نہ ہو

ایسا بھی عاشقی میں کوئی در بدر نہ ہو

کوشش کے باوجود نہ ہو، عمر بھر نہ ہو

ﷲ کرے کہ مجھ سے تِرا غم بسر نہ ہو

اس کا یہ حکم ہے مجھے جاتا ہوا بھی دیکھ

اور یہ بھی شرط ہے کہ میاں آنکھ تر نہ ہو

Saturday, 30 April 2022

نمدیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا

 نم دیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا

تُو عرشِ تغافل سے اتر کیوں نہیں آتا

میں آپ کے پیروں میں پڑا سوچ رہا ہوں

میں آپ کی آنکھوں کو نظر کیوں نہیں آتا

اب شام ہوئی جاتی ہے اور شام بھی گہری

اے صبح کے بُھولے ہوئے گھر کیوں نہیں آتا