تمہیں جب دیکھتا ہوں تو
مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں
تمہیں سنتا ہوں
تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں
اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے
تمہارا نام لیتا ہوں
تمہیں جب دیکھتا ہوں تو
مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں
تمہیں سنتا ہوں
تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں
اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے
تمہارا نام لیتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہی دُعا ہے یہی نعت بس، زیادہ نہ کم
ہو میری عُمر تریسٹھ برس، زیادہ نہ کم
عطا ہوا تھا مجھے جتنا اِذن روضے سے
ہوا میں جالی سے اُتنا ہی مَس، زیادہ نہ کم
بس اُتنی جتنی م<را بادشہ اجازت دے
بس اُتنی دیر چلے گا نفس، زیادہ نہ کم
سامنے تھا وہ مگر دید وغیرہ نہیں کی
اب کے آنکھوں نے کوئی عید وغیرہ نہیں کی
یُوں رکھا مان ہمیشہ تِرے بُہتانوں کا
ہنس کے چُپ ہو گئے، تردید وغیرہ نہیں کی
خیر ہو، آج طبیعت تری ناساز ہے کیا ؟
آج مجھ پر کوئی تنقید وغیرہ نہیں کی
جس کا بھی محبت پر ایمان نہیں ہوتا
آدم تو وہ ہوتا ہے،۔ انسان نہیں ہوتا
خیرات دِیا کیجے، یہ رب سے تجارت ہے
اور رب سے تجارت میں نُقصان نہیں ہوتا
دیکھا ہے اُسے چُھو کر، وہ آگ کی گُڑیا ہے
اور آگ کو چُھو لینا آسان نہیں ہوتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حسینؑ کا ہے
فُرات چھیننے والو! خدا حسینؑ کا ہے
کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو
ثباتِ رسمِ عزا معجزہ حسینؑ کا ہے
ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں
اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حسینؑ کا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
تم ہو معراجِ وفا، اے کشتگانِ کربلا
ورنہ، آساں تو نہیں تھا امتحانِ کربلا
ہر کہانی جس نے لکھی ہے ازل سے آج تک
وہ بھی رویا ہو گا سُن کر داستانِ کربلا
دودھ کی نہریں بھی قُرباں، حوضِ کوثر بھی نثار
اِک تمہاری پیاس پر، اے تشنگانِ کربلا
یہ چلتی پھرتی دعاؤں کا عالمی دن ہے
دعائیں لیجے کہ ماؤں کا عالمی دن ہے
جو روز صبح مُصلے سے ہو کے آتی ہیں
اُنہی خموش صداؤں کا عالمی دن ہے
تمام رنگ ہیں جن سے ہماری ہستی کے
اُنہی سفید رِداؤں کا عالمی دن ہے
وہ اور ہوں گے کہ جو دشمنوں میں مارے گئے
کہ ہم تو اپنے خدا کے گھروں میں مارے گئے
جو تجھ سے مانگنے آئے تھے خیریت، یارب
تِرے وہ بندے تِری مسجدوں میں مارے گئے
یہ کوئی جنگ نہیں تھی، نماز تھی مولا
دعا بہ لب تھے جو پہلی صفوں میں مارے گئے
بیٹیوں جیسی ہے تُو، سو جب بڑی ہو جائے گی
اے اُداسی! کیا تِری بھی رُخصتی ہو جائے گی
ایک ہی تو شخص مانگا ہے خُدایا! دے بھی دے
کون سا تیرے خزانوں میں کمی ہو جائے گی
میری بستی میں تو تِتلی پر بھی مَر مِٹتے ہیں لوگ
تیرے آنے سے تو خلقت باؤلی ہو جائے گی
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام
قائم رہے سروں پہ رِدائے غمِ حسینؑ
مولا نہ کوئی غم دے سوائے غمِ حسین
کچھ کہہ رہی ہے شامِ غریباں کی خامشی
رہ رہ کے آ رہی ہے صدائے غمِ حسین
اس آنکھ کو تو آنکھ نہیں، بے حسی کہو
جس آنکھ کو لہو نہ رُلائے غمِ حسین
اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ہے
مگر تِرے در پہ میرے پہلے قدم کا چرچا بھی کم نہیں ہے
ہمارا غم ملک بھر میں پھیلا ہے، کون سی آنکھ نم نہیں ہے
ہمارے بندھن کا ٹوٹ جانا، سقوطِ ڈھاکہ سے کم نہیں ہے
تُو عشق بھی ہے عقیدہ بھی ہے، میں تیری خاطر لڑوں گا سب سے
جو تجھ کو اچھا نہیں سمجھتا، مِرے لیے محترم نہیں ہے
اب یہاں سب کو محبت ہے، میاں
اب میں چلتا ہوں، اجازت ہے، میاں
عشق ہے، یہ کوئی مجبوری نہیں
دیکھ لو، جیسے سہولت ہے، میاں
میں یہاں تک تجھے لے آیا ہوں
اس سے آگے تِری ہمت ہے، میاں
عشق کا گر کوئی پیمانہ مقرر ہوتا
یار! میں ہی ترا دیوانہ مقرر ہوتا
روز کے لاکھوں کما لیتا میں گھر بیٹھے ہوئے
گر تِری یاد کا عوضانہ مقرر ہوتا
سلطنت ہوتی اگر گہری اُداسی کی کوئی
یہ فقیر افسرِ شاہانہ مقرر ہوتا
کوئی میرے اشک پونچھے، کوئی بہلائے مجھے
یوں نہ ہو لوگو! اداسی راس آ جائے مجھے
عشق نے ایسے سہانے رنگ پہنائے مجھے
گل تو گل ہیں، چاند تارے دیکھنے آئے مجھے
ربِ گِریہ بخش! تجھ کو آنسوؤں کا واسطہ
دیکھ، کافی ہو چکی، اب عشق ہو جائے مجھے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
جب جب بھی دکھ اٹھائے، مسرت عطا ہوئی
پھر قحط سے مرے ہوئے دفنا دئیے گئے
اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ہوئی
اس حکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار
ہم بزدلوں کو کفر کی ہمت عطا ہوئی
تُو حکم کر، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا
پھر میں پلٹ کے آؤں تو جو چور کی سزا
بے خوف آ کے مِل کہ تِرے اذن کے بغیر
میں آنکھ بھی اٹھاؤں تو جو چور کی سزا
چوری کروں گا بس تِرا دل، نیند اور چین
میں اور کچھ چراؤں تو جو چور کی سزا
کسی بھی طور بہلتا نہیں جنوں تیرا
مِرے تڑپتے ہوئے دل! میں کیا کروں تیرا
دِیے جلاؤں گا، اے دوست! اپنی آنکھوں کے
تُو آئے گا تو سواگت کروں گا یوں تیرا
تُو میرے واسطے ممنوع پھل سہی، لیکن
مجھے یہ دُھن ہے کہ میں ذائقہ چکھوں تیرا
لعل و گہر کہاں ہیں، دفینوں سے پوچھ لو
سینوں میں کافی راز ہیں، سینوں سے پوچھ لو
جھیلا ہے میں نے تین سو پینسٹھ دکھوں کا سال
چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو
قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچے گھروں کے دُکھ
تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پوچھ لو
جس شہر میں سحر ہو، وہاں شب بسر نہ ہو
ایسا بھی عاشقی میں کوئی در بدر نہ ہو
کوشش کے باوجود نہ ہو، عمر بھر نہ ہو
ﷲ کرے کہ مجھ سے تِرا غم بسر نہ ہو
اس کا یہ حکم ہے مجھے جاتا ہوا بھی دیکھ
اور یہ بھی شرط ہے کہ میاں آنکھ تر نہ ہو
نم دیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا
تُو عرشِ تغافل سے اتر کیوں نہیں آتا
میں آپ کے پیروں میں پڑا سوچ رہا ہوں
میں آپ کی آنکھوں کو نظر کیوں نہیں آتا
اب شام ہوئی جاتی ہے اور شام بھی گہری
اے صبح کے بُھولے ہوئے گھر کیوں نہیں آتا