کسی بھی طور بہلتا نہیں جنوں تیرا
مِرے تڑپتے ہوئے دل! میں کیا کروں تیرا
دِیے جلاؤں گا، اے دوست! اپنی آنکھوں کے
تُو آئے گا تو سواگت کروں گا یوں تیرا
تُو میرے واسطے ممنوع پھل سہی، لیکن
مجھے یہ دُھن ہے کہ میں ذائقہ چکھوں تیرا
میں تیرے زعم کا تختہ الٹ بھی سکتا ہوں
یہ اور بات کہ ادنیٰ غلام ہوں تیرا
دیارِ یار کی گلیوں میں جا کے رو، فارس
وہیں قرار ہے تیرا، وہیں سکوں تیرا
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment