Showing posts with label عبدالرؤف عروج. Show all posts
Showing posts with label عبدالرؤف عروج. Show all posts

Saturday, 21 June 2025

کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا

 کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا 

دار بہ دار افتاد سے کھیلے زلف بہ زلف آرام کیا

ساون ساون شعلے بھڑکے گلشن گلشن آگ لگی 

کیسا سورج ابھرا جس نے صبح کو آتش نام کیا

تنہائی بھی سناٹے بھی دل کو ڈستے جاتے ہیں 

رہگیرو کس دیس میں آ کر ہم نے آج قیام کیا

Thursday, 13 February 2025

یہ دور یہ قید سخت جیسے

 یہ دور یہ قید سخت جیسے

آویزش وہم و بخت جیسے

یہ دشت کی تیز تر ہوائیں

ٹوٹیں گے کئی درخت جیسے

اک شور فضا میں گونجتا ہے

آوازہ تاج و تخت جیسے

Saturday, 25 May 2024

کس چاند کی لگن میں دیوانے آدمی ہیں

 کس چاند کی لگن میں دیوانے آدمی ہیں

خود اپنی روشنی سے بے گانے آدمی ہیں

جو فرق تھا دلوں میں کس طرح جا سکے گا

اک بے وفا کے ٹوٹے یارانے آدمی ہیں

یوں گردش زمانہ تقدیر ہو چکی ہے

جیسے بساط غم پر پیمانے آدمی ہیں

Tuesday, 11 October 2022

عجیب طرح کا منظر دکھائی دیتا ہے

عجیب طرح کا منظر دکھائی دیتا ہے

ہمارے گھر سے سمندر دکھائی دیتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ اس بار خوبصورت چاند

کسی کے بام سے کیونکر دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کیسے فسوں گر نے سحر پھونک دیا

تمام شہر ہی پتھر دکھائی دیتا ہے

Saturday, 5 February 2022

کٹھن ہے راہگزر سوچنا ہی پڑتا ہے

کٹھن ہے راہگذر سوچنا ہی پڑتا ہے

مال ذوق سفر سوچنا ہی پڑتا ہے

فقیہہ شہر کا لالہ کنار پیراہن

ہے کس کے خون سے تر سوچنا ہی پڑتا ہے

ہیں آج بھی تو ہزار آفتاب شب آلود

یہ اہتمام سحر سوچنا ہی پڑتا ہے