کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا
دار بہ دار افتاد سے کھیلے زلف بہ زلف آرام کیا
ساون ساون شعلے بھڑکے گلشن گلشن آگ لگی
کیسا سورج ابھرا جس نے صبح کو آتش نام کیا
تنہائی بھی سناٹے بھی دل کو ڈستے جاتے ہیں
رہگیرو کس دیس میں آ کر ہم نے آج قیام کیا