Saturday, 5 February 2022

کٹھن ہے راہگزر سوچنا ہی پڑتا ہے

کٹھن ہے راہگذر سوچنا ہی پڑتا ہے

مال ذوق سفر سوچنا ہی پڑتا ہے

فقیہہ شہر کا لالہ کنار پیراہن

ہے کس کے خون سے تر سوچنا ہی پڑتا ہے

ہیں آج بھی تو ہزار آفتاب شب آلود

یہ اہتمام سحر سوچنا ہی پڑتا ہے

تلاش کنج صبا میں بھٹکنے والوں کو

کھلے ہیں گل کہ شرر سوچنا ہی پڑتا ہے

پکارتی ہیں صبحیں جنوں کی راہوں سے

گئے ہیں لوگ کدھر سوچنا ہی پڑتا ہے

ترا جمال فسوں گر خیال تھا کہ نظر

بہر خیال و نظر سوچنا ہی پڑتا ہے

کشید خون جگر رائیگاں نہ جائے گی

ہنر وروں کو مگر سوچنا ہی پڑتا ہے


عبدالرؤف عروج

No comments:

Post a Comment