کٹھن ہے راہگذر سوچنا ہی پڑتا ہے
مال ذوق سفر سوچنا ہی پڑتا ہے
فقیہہ شہر کا لالہ کنار پیراہن
ہے کس کے خون سے تر سوچنا ہی پڑتا ہے
ہیں آج بھی تو ہزار آفتاب شب آلود
یہ اہتمام سحر سوچنا ہی پڑتا ہے
تلاش کنج صبا میں بھٹکنے والوں کو
کھلے ہیں گل کہ شرر سوچنا ہی پڑتا ہے
پکارتی ہیں صبحیں جنوں کی راہوں سے
گئے ہیں لوگ کدھر سوچنا ہی پڑتا ہے
ترا جمال فسوں گر خیال تھا کہ نظر
بہر خیال و نظر سوچنا ہی پڑتا ہے
کشید خون جگر رائیگاں نہ جائے گی
ہنر وروں کو مگر سوچنا ہی پڑتا ہے
عبدالرؤف عروج
No comments:
Post a Comment