اک شور سمیٹو جیون بھر اور چپ دریا میں اتر جاؤ
دنیا نے تم کو تنہا کیا،۔۔ تم اس کو تنہا کر جاؤ
اس ہجر و وصال کے بیچ کہیں اک لمحے کو جی چاہتا ہے
بس ابر و ہوا کے ساتھ پھرو اور جسم و جاں سے گزر جاؤ
تم ریزہ ریزہ ہو کر بھی جو خود کو سمیٹے پھرتے ہو
سو اب کے ہوا پژمُردہ ہے، اس بار ذرا سا بکھر جاؤ
جنگل کا گھنیرا اندھیارا اب آن بسا ہے شہروں میں
ان شہروں کو یوں ہی رہنا ہے اب زندہ رہو یا مر جاؤ
اک تاریک ہوا کا جھونکا رک کے یہ مجھ سے کہتا ہے
یہ روشن گلیاں جھوٹی، ہیں تم صابر اپنے گھر جاؤ
صابر وسیم
No comments:
Post a Comment