عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سُخن کے باب میں مدح و ثنا ضروری ہے
حسین ماتھے پہ جھُومر سجا ضروری ہے
نماز کامل و اکمل درودِ پاکﷺ سے ہے
دُعا کے پر کو بھی صلیِ علیٰ ضروری ہے
مری زبان میں لکنت ہے یا رسول اللہﷺ
بیانِ شوق کو تیری رضا ضروری ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سُخن کے باب میں مدح و ثنا ضروری ہے
حسین ماتھے پہ جھُومر سجا ضروری ہے
نماز کامل و اکمل درودِ پاکﷺ سے ہے
دُعا کے پر کو بھی صلیِ علیٰ ضروری ہے
مری زبان میں لکنت ہے یا رسول اللہﷺ
بیانِ شوق کو تیری رضا ضروری ہے
قافلے دل میں اداسی کے جب آباد ہوئے
جتنے معمار تھے اس شہر کے فرہاد ہوئے
پہلے ملتا تھا فقط ہجر کا آزار ہمیں
وقت کے ساتھ کئی روگ پھر ایجاد ہوئے
دوستانہ سی طبیعت کے خد و خال لیے
عارفانہ سے جو چہرے تھے مجھے یاد ہوئے
تُو جا چکا ہے مگر دل یہ مانتا ہی نہیں
کہ ایسا آج سے پہلے کبھی ہوا ہی نہیں
لگے ہو ہاتھ یقیناً تم ایسے ویسوں کے
ملول چہرہ کبھی اس طرح سے تھا ہی نہیں
بسنت اوڑھنے والا وہ گُل بہار بدن
خزاں رسیدہ لبادہ پہن سکا ہی نہیں
کرتا ہے دیکھیے ذرا کیسے نباہ دل
بھٹکے خیال کی بنا جائے پناہ دل
آنکھوں کے راستے چلے آئیں نیاز مند
فیضانِ اضطراب کی ہے بارگاہ دل
ہر بار کہہ کے آخری توبہ کرے مگر
ہر بار شرم سار ہو، کر کر گناہ دل
محبتوں کے مقالے سمجھ سے باہر ہیں
جگہ جگہ پہ حوالے سمجھ سے باہر ہیں
حسین چہرے پہ غم کا نزول کیوں کر ہے
نئے مکان میں جالے سمجھ سے باہر ہیں
بندھے ہیں ہاتھ تمہارے سمجھ میں آتا ہے
مگر زباں پہ تالے سمجھ سے باہر ہیں
ویرانیوں کے کارواں ہنستے چلے گئے
آوازیں میرے حال پہ کستے چلے گئے
تاروں کو کیا خبر کہ محبت کی دھوپ میں
کتنے حسین چہرے جھلستے چلے گئے
وافر نمی نے پُتلیوں کو دلدلی کیا
یوں خواب میری آنکھ میں دھنستے چلے گئے
مجھ سے ناراض تھا پر مجھ کو لگا راضی ہے
کر کے پھر فون اسے پوچھ لیا؛ راضی ہے؟
زہے قسمت، جو کبھی آئیں اِدھر سیر کو آپ
باغباں راضی، چمن راضی، صبا راضی ہے
جس کو رہتی تھی سدا فکر مِری، دیکھو آج
وہ مِرے دل کی اداسی پہ بڑا راضی ہے
آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں
اشکوں کے انحراف سے دجلہ خرید لوں
باہر سے کوئی دیکھنے اس کو نہ آ سکے
جاتا ہوا میں شہر کو رستہ خرید لوں
ممکن اگر ہو سانس کی زنجیر کھینچ کر
چھُٹتی عمر کی ریل کا ڈبہ خرید لوں