Showing posts with label فہیم آذر. Show all posts
Showing posts with label فہیم آذر. Show all posts

Saturday, 10 January 2026

سخن کے باب میں مدح و ثنا ضروری ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سُخن کے باب میں مدح و ثنا ضروری ہے

حسین ماتھے پہ جھُومر سجا ضروری ہے

نماز کامل و اکمل درودِ پاکﷺ سے ہے

دُعا کے پر کو بھی صلیِ علیٰ ضروری ہے

مری زبان میں لکنت ہے یا رسول اللہﷺ

بیانِ شوق کو تیری رضا ضروری ہے

Sunday, 12 June 2022

قافلے دل میں اداسی کے جب آباد ہوئے

 قافلے دل میں اداسی کے جب آباد ہوئے

جتنے معمار تھے اس شہر کے فرہاد ہوئے

پہلے ملتا تھا فقط ہجر کا آزار ہمیں

وقت کے ساتھ کئی روگ پھر ایجاد ہوئے

دوستانہ سی طبیعت کے خد و خال لیے

عارفانہ سے جو چہرے تھے مجھے یاد ہوئے

Monday, 18 October 2021

تو جا چکا ہے مگر دل یہ مانتا ہی نہیں

تُو جا چکا ہے مگر دل یہ مانتا ہی نہیں

کہ ایسا آج سے پہلے کبھی ہوا ہی نہیں

لگے ہو ہاتھ یقیناً تم ایسے ویسوں کے

ملول چہرہ کبھی اس طرح سے تھا ہی نہیں

بسنت اوڑھنے والا وہ گُل بہار بدن

خزاں رسیدہ لبادہ پہن سکا ہی نہیں

Sunday, 15 August 2021

کرتا ہے دیکھیے ذرا کیسے نباہ دل

 کرتا ہے دیکھیے ذرا کیسے نباہ دل

بھٹکے خیال کی بنا جائے پناہ دل

آنکھوں کے راستے چلے آئیں نیاز مند

فیضانِ اضطراب کی ہے بارگاہ دل

ہر بار کہہ کے آخری توبہ کرے مگر

ہر بار شرم سار ہو، کر کر گناہ دل

Friday, 30 July 2021

محبتوں کے مقالے سمجھ سے باہر ہیں

 محبتوں کے مقالے سمجھ سے باہر ہیں

جگہ جگہ پہ حوالے سمجھ سے باہر ہیں 

حسین چہرے پہ غم کا نزول کیوں کر ہے 

نئے مکان میں جالے سمجھ سے باہر ہیں 

بندھے ہیں ہاتھ تمہارے سمجھ میں آتا ہے

مگر زباں پہ تالے سمجھ سے باہر ہیں 

ویرانیوں کے کارواں ہنستے چلے گئے

 ویرانیوں کے کارواں ہنستے چلے گئے

آوازیں میرے حال پہ کستے چلے گئے

تاروں کو کیا خبر کہ محبت کی دھوپ میں

کتنے حسین چہرے جھلستے چلے گئے

وافر نمی نے پُتلیوں کو دلدلی کیا

یوں خواب میری آنکھ میں دھنستے چلے گئے

Sunday, 4 July 2021

مجھ سے ناراض تھا پر مجھ کو لگا راضی ہے

 مجھ سے ناراض تھا پر مجھ کو لگا راضی ہے

کر کے پھر فون اسے پوچھ لیا؛ راضی ہے؟

زہے قسمت، جو کبھی آئیں اِدھر سیر کو آپ

باغباں راضی، چمن راضی، صبا راضی ہے

جس کو رہتی تھی سدا فکر مِری، دیکھو آج

وہ مِرے دل کی اداسی پہ بڑا راضی ہے

Sunday, 6 June 2021

آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں

 آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں

اشکوں کے انحراف سے دجلہ خرید لوں

باہر سے کوئی دیکھنے اس کو نہ آ سکے

جاتا ہوا میں شہر کو رستہ خرید لوں

ممکن اگر ہو سانس کی زنجیر کھینچ کر

چھُٹتی عمر کی ریل کا ڈبہ خرید لوں