کرتا ہے دیکھیے ذرا کیسے نباہ دل
بھٹکے خیال کی بنا جائے پناہ دل
آنکھوں کے راستے چلے آئیں نیاز مند
فیضانِ اضطراب کی ہے بارگاہ دل
ہر بار کہہ کے آخری توبہ کرے مگر
ہر بار شرم سار ہو، کر کر گناہ دل
روپوش کر دئیے گئے موقع پہ چشم دید
صرف اک کھڑا رہا تنِ تنہا گواہ دل
جب میں کہوں، یہ آپ پہ آیا، کہیں وہ؛ ہُنہ
آیا ہے بن کے میرا بڑا خیر خواہ دل
اس نے کہا جو ناز سے، ہائے مِرا جگر
میں نے بھی کہہ دیا پھر اسی وقت، آہ دل
جب سے کیا ہے مرشدِ کامل کو رہنما
منزل بنی بقاء مِری اور زادِ راہ دل
چنچل مزاج لوگ جب آذر بچھڑ گئے
بے چینیوں نے کر دیا میرا تباہ دل
فہیم الرحمٰن آذر
No comments:
Post a Comment