Showing posts with label جاوید قریشی. Show all posts
Showing posts with label جاوید قریشی. Show all posts

Wednesday, 24 February 2021

صحرا لگے کبھی کبھی دریا دکھائی دے

صحرا لگے کبھی کبھی دریا دکھائی دے 

حیران ہوں میں کیا ہے جہاں کیا دکھائی دے 

آواز کوئی ہو میں اسی کی صدا سنوں 

ہر سمت مجھ کو ایک ہی چہرہ دکھائی دے 

نادانیوں کا دل کی بھی کوئی علاج ہو 

بن کے وہ غیر بھی مجھے اپنا دکھائی دے

Tuesday, 23 February 2021

وہ مری بزم میں آیا ہو کبھی یاد نہیں

 وہ مِری بزم میں آیا ہو کبھی یاد نہیں 

حالِ دل کھُل کے سنایا ہو کبھی یاد نہیں 

اک سرِ راہ ملاقات تو تسلیم، مگر 

خلوتوں میں بھی بلایا ہو کبھی یاد نہیں 

قہقہے چھین کے آنسو مجھے دینے والے 

میں نے تجھ کو بھی رُلایا ہو کبھی یاد نہیں 

Friday, 31 July 2020

پھر سے وعدہ کرو مکر جاؤ

اس طرف سے ذرا گزر جاؤ
خشک پتوں میں رنگ بھر جاؤ
جی اٹھیں جاں بہ لب یہ دیواریں
آؤ، یہ معجزہ بھی کر جاؤ
روح تک تازگی سی پھیلا دو
بن کے خوشبو ذرا بکھر جاؤ

جہاں ڈبویا وہاں سے ابھر رہا ہوں میں

شمار لمحوں کا صدیوں میں کر رہا ہوں میں
عجیب وقت سے یارو! گزر رہا ہوں میں
یہ سارا فیض، اسی آتشِ دروں کا ہے
ہوا ہے کتنا اندھیرا، نکھر رہا ہوں میں
نظر نظر میں حکایت مِرے جنوں کی ہے 
صحیفہ بن کے دلوں میں اتر رہا ہوں میں 

Sunday, 12 August 2012

دل جلانے کی بات کرتے ہو

دل جلانے کی بات کرتے ہو
آشیانے کی بات کرتے ہو
ہم کو اپنی خبر نہیں یارو
تم زمانے کی بات کرتے ہو
سارے دنیا کے رنج و غم دے کر
مسکرانے کی بات کرتے ہو