صحرا لگے کبھی کبھی دریا دکھائی دے
حیران ہوں میں کیا ہے جہاں کیا دکھائی دے
آواز کوئی ہو میں اسی کی صدا سنوں
ہر سمت مجھ کو ایک ہی چہرہ دکھائی دے
نادانیوں کا دل کی بھی کوئی علاج ہو
بن کے وہ غیر بھی مجھے اپنا دکھائی دے
صحرا لگے کبھی کبھی دریا دکھائی دے
حیران ہوں میں کیا ہے جہاں کیا دکھائی دے
آواز کوئی ہو میں اسی کی صدا سنوں
ہر سمت مجھ کو ایک ہی چہرہ دکھائی دے
نادانیوں کا دل کی بھی کوئی علاج ہو
بن کے وہ غیر بھی مجھے اپنا دکھائی دے
وہ مِری بزم میں آیا ہو کبھی یاد نہیں
حالِ دل کھُل کے سنایا ہو کبھی یاد نہیں
اک سرِ راہ ملاقات تو تسلیم، مگر
خلوتوں میں بھی بلایا ہو کبھی یاد نہیں
قہقہے چھین کے آنسو مجھے دینے والے
میں نے تجھ کو بھی رُلایا ہو کبھی یاد نہیں