دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا
اور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گا
یہ ایسی منزلیں ہیں کہ رستہ نہیں کوئی
سامان باندھ لو گے تو رستہ بلائے گا
بے دست و پا تھا شب میں تِری یاد کے سبب
اتنا کہ لگ رہا تھا کہ تُو چھوٹ جائے گا
دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا
اور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گا
یہ ایسی منزلیں ہیں کہ رستہ نہیں کوئی
سامان باندھ لو گے تو رستہ بلائے گا
بے دست و پا تھا شب میں تِری یاد کے سبب
اتنا کہ لگ رہا تھا کہ تُو چھوٹ جائے گا
ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے
شوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچے
لا مکاں سے جو چلے کون و مکاں تک پہنچے
بے کرانی سے گئے، حدِ گُماں تک پہنچے
کوئی صحرا کو چلا،💢 کوئی سمندر کو گیا
تیری آنکھوں کے سخن اہلِ جہاں تک پہنچے
پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیں
ہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیں
جن لوگوں کی منزل پہ نظر ہوتی ہے ہر دم
ان کا ہی تماشا ہیں یہ کھوئی ہوئی آنکھیں
دن بھر تو جمے رہتے ہیں پلکوں پہ وہی خواب
کیوں ہوش میں لاتی نہیں دھوئی ہوئی آنکھیں
الوداع اے حسرتوں کے زرد موسم الوداع
دل کو جینا آ گیا ہے، دردِ پیہم الوداع
اب ہمارا قلب ہے امید کا روشن دیا
تیرگی افسردگی اے چشمِ پُر نم الوداع
وصل، فرقت، غم، خوشی سب عارضی جذبات ہیں
وقتِ رُخصت گُل کو ہے پیغامِ شبنم، الوداع
ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیں
ابھی رات باقی ہے، ہم جانتے ہیں
یہ شہرت مجازی ہے ہم جانتے ہیں
کہ ہے بھی نہیں بھی ہے ہم جانتے ہیں
بہت ساری اچھی سی خوش فہمیوں کی
جو قیمت ادا کی ہے، ہم جانتے ہیں