Showing posts with label عامر خان. Show all posts
Showing posts with label عامر خان. Show all posts

Wednesday, 12 October 2022

دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا

 دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا

اور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گا

یہ ایسی منزلیں ہیں کہ رستہ نہیں کوئی

سامان باندھ لو گے تو رستہ بلائے گا

بے دست و پا تھا شب میں تِری یاد کے سبب

اتنا کہ لگ رہا تھا کہ تُو چھوٹ جائے گا

Thursday, 6 October 2022

ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے

 ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے

شوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچے

لا مکاں سے جو چلے کون و مکاں تک پہنچے

بے کرانی سے گئے، حدِ گُماں تک پہنچے

کوئی صحرا کو چلا،💢 کوئی سمندر کو گیا

تیری آنکھوں کے سخن اہلِ جہاں تک پہنچے

Wednesday, 5 October 2022

پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیں

 پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیں

ہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیں

جن لوگوں کی منزل پہ نظر ہوتی ہے ہر دم

ان کا ہی تماشا ہیں یہ کھوئی ہوئی آنکھیں

دن بھر تو جمے رہتے ہیں پلکوں پہ وہی خواب

کیوں ہوش میں لاتی نہیں دھوئی ہوئی آنکھیں

Sunday, 27 February 2022

الوداع اے حسرتوں کے زرد موسم الوداع

 الوداع اے حسرتوں کے زرد موسم الوداع

دل کو جینا آ گیا ہے، دردِ پیہم الوداع

اب ہمارا قلب ہے امید کا روشن دیا

تیرگی افسردگی اے چشمِ پُر نم الوداع

وصل، فرقت، غم، خوشی سب عارضی جذبات ہیں

وقتِ رُخصت گُل کو ہے پیغامِ شبنم، الوداع

Tuesday, 9 March 2021

ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیں

ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیں

ابھی رات باقی ہے، ہم جانتے ہیں

یہ شہرت مجازی ہے ہم جانتے ہیں

کہ ہے بھی نہیں بھی ہے ہم جانتے ہیں

بہت ساری اچھی سی خوش فہمیوں کی

جو قیمت ادا کی ہے، ہم جانتے ہیں