ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے
شوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچے
لا مکاں سے جو چلے کون و مکاں تک پہنچے
بے کرانی سے گئے، حدِ گُماں تک پہنچے
کوئی صحرا کو چلا،💢 کوئی سمندر کو گیا
تیری آنکھوں کے سخن اہلِ جہاں تک پہنچے
کوئی اپنی بھی تو لے جائے کبھی بات وہاں
کتنے پیغام وہاں سے تو یہاں تک پہنچے
دل💞 کا الجھاؤ ہے داغِ دلِ آدم عامر
دل کو معلوم نہیں داغ یہاں تک پہنچے
عامر اظہر خان
No comments:
Post a Comment