Thursday, 6 October 2022

ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے

 ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے

شوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچے

لا مکاں سے جو چلے کون و مکاں تک پہنچے

بے کرانی سے گئے، حدِ گُماں تک پہنچے

کوئی صحرا کو چلا،💢 کوئی سمندر کو گیا

تیری آنکھوں کے سخن اہلِ جہاں تک پہنچے

کوئی اپنی بھی تو لے جائے کبھی بات وہاں

کتنے پیغام وہاں سے تو یہاں تک پہنچے

دل💞 کا الجھاؤ ہے داغِ دلِ آدم عامر

دل کو معلوم نہیں داغ یہاں تک پہنچے


عامر اظہر خان

No comments:

Post a Comment