سپاہ ملک جب چلی لگا کے نعرۂ علی
لگا کے نعرۂ علی
سپاہ ملک جب چلی
عدو کے ہوش اڑ گئے
وطن کی ہر بلا ٹلی
کہاں تک بزدلوں میں دم
ادھر بڑھے تھے جو قدم
سپاہ ملک جب چلی لگا کے نعرۂ علی
لگا کے نعرۂ علی
سپاہ ملک جب چلی
عدو کے ہوش اڑ گئے
وطن کی ہر بلا ٹلی
کہاں تک بزدلوں میں دم
ادھر بڑھے تھے جو قدم
سفید بنیا
قرض دے کر غریب ملکوں کو
چھین لیتا ہے روحِ آزادی
آج زیرِ عتاب ہے اس کے
ہر بڑا شہر، ہر حسیں وادی
مُدتوں سر اُٹھا کے چل نہ سکا
اس کے کھاتے میں جس کا نام آیا
ہر گام پر تھے شمس و قمر اس دیار میں
کتنے حسیں تھے شام و سحر اس دیار میں
وہ باغ وہ بہار وہ دریا وہ سبزہ زار
نشوں سے کھیلتی تھی نظر اس دیار میں
آسان تھا سفر کہ ہر اک راہگزر پر
ملتے تھے سایہ دار شجر اس دیار میں
گیت/غزل
اس دورِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے
یہ ہنستا ہوا چاند،۔ یہ پُر نور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر، دیوار کو در، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گُھٹتا ہے گنبدِ بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے
جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے
آشفتہ سری ہے، مری آشفتہ سری ہے
اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں
سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے
نام چلے ہرنام داس کا، کام چلے امریکا کا
مورکھ اس کوشش میں ہے سورج نہ ڈھلے امریکا کا
نردھن کی آنکھوں میں آنسو آج بھی ہیں اور کل بھی تھے
برلا کے گھر دیوالی ہے، تیل جلے امریکا کا
دنیا بھر کے مظلوموں نے بھید یہ سارا جان لیا
آج ہے ڈیرا زرداروں کے سائے تلے امریکا کا
روئے بھگت کبیر
پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر
پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میر
چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر
روئے بھگت کبیر
اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بُدھی وان
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم تِرا شہر چھوڑ جائیں گے
دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے
شمع ماہ و نجوم گل کر کے
آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے
دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا، مت ڈر جانا، سچ ہی لکھتے جانا
باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں
وہ شمعیں روشن کر جانا، سچ ہی لکھتے جانا
پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مر جانا، سچ ہی لکھتے جانا
خوب آزادئ صحافت ہے
نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے
دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن
یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے
دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار
سب کو معلوم یہ حقیقت ہے
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو
ہنستی گاتی، روشن وادی
تاریکی میں ڈوب گئی
بیتے دن کی لاش پہ اے دل
میں روتا ہوں تُو بھی رو
ظلم رہے اور امن بھی ہو
مادرِ ملت کے لیے ہدیۂ تبریک
ہے آج سارے وطن کی زباں پہ نام اس کا
وہ مر گئی ہے مگر زندہ ہے پیام اس کا
یونہی رہے گا ہر اک دل میں احترام اس کا
بلند رکھیں گے پرچم سدا عوام اس کا
نشاں تمہارا نہ ہو گا، ذرا مرو تو سہی
فرازِ جاہ سے نیچے قدم دھرو تو سہی
حبیب جالب
شیوخ و شاہ کو سمجھو نہ پاسبانِ حرم
یہ بندگانِ زر و سیم ہیں خدا کی قسم
شیوخ و شاہ تو ہیں خود شریکِ ظلم و ستم
شیوخ و شاہ سے رکھو نہ کچھ امیدِ کرم
امیر کیسے نہ واشنگٹن کے ساتھ رہیں
انہی کے دم سے ہیں ساری امارتیں ہمدم
ہوئے آقا فرنگیوں کے غلام
شبِ آلام ہو سکی نہ تمام
حکمراں ہو گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ
ہر محبِ وطن ذلیل ہوا
رات کا فاصلہ طویل ہوا
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم
ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم
اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم
دل پُر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
تجھ سے بھی ہم نے تِرا پیار چھپائے رکھا
چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا
غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت
پھر بھی ہم نے تِرا غم دل میں بسائے رکھا
شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں
اے نظامِ کہن کے فرزندو
اے شبِ تار کے جگر بندو
یہ شبِ تار جاوداں تو نہیں
یہ شبِ تار جانے والی ہے
تا بکے تیرگی کے افسانے
کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں
نجانے پھر یہ رت آئے نہ آئے
جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں
بہت روئے زمانے کے لیے ہم
ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں
یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے
اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے
جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر
نئی ہے شمع پروانے پرانے