Showing posts with label حبیب جالب. Show all posts
Showing posts with label حبیب جالب. Show all posts

Saturday, 7 September 2024

سپاہ ملک جب چلی لگا کے نعرۂ علی

 سپاہ ملک جب چلی لگا کے نعرۂ علی


لگا کے نعرۂ علی

سپاہ ملک جب چلی

عدو کے ہوش اڑ گئے

وطن کی ہر بلا ٹلی


کہاں تک بزدلوں میں دم

ادھر بڑھے تھے جو قدم

Thursday, 7 March 2024

سفید بنیا قرض دے کر چھین لیتا ہے روح آزادی

 سفید بنیا


قرض دے کر غریب ملکوں کو

چھین لیتا ہے روحِ آزادی

آج زیرِ عتاب ہے اس کے

ہر بڑا شہر، ہر حسیں وادی

مُدتوں سر اُٹھا کے چل نہ سکا

اس کے کھاتے میں جس کا نام آیا

Sunday, 13 November 2022

ہر گام پر تھے شمس و قمر اس دیار میں

 ہر گام پر تھے شمس و قمر اس دیار میں

کتنے حسیں تھے شام و سحر اس دیار میں

وہ باغ وہ بہار وہ دریا وہ سبزہ زار

نشوں سے کھیلتی تھی نظر اس دیار میں

آسان تھا سفر کہ ہر اک راہگزر پر

ملتے تھے سایہ دار شجر اس دیار میں

Friday, 14 October 2022

اس دور خرابی میں غم عشق کے مارے

 گیت/غزل


اس دورِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے

زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند،۔ یہ پُر نور ستارے

تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے

ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

Monday, 12 September 2022

ظلمت کو ضیا صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

 ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

پتھر کو گُہر، دیوار کو در، کرگس کو ہُما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گُھٹتا ہے گنبدِ بے در میں

اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں

اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

Tuesday, 23 August 2022

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

 جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے

جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے

آشفتہ سری ہے، مری آشفتہ سری ہے

اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں

سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے

Saturday, 30 July 2022

نام چلے ہرنام داس کا کام چلے امریکا کا

نام چلے ہرنام داس کا، کام چلے امریکا کا

مورکھ اس کوشش میں ہے سورج نہ ڈھلے امریکا کا

نردھن کی آنکھوں میں آنسو آج بھی ہیں اور کل بھی تھے

برلا کے گھر دیوالی ہے، تیل جلے امریکا کا

دنیا بھر کے مظلوموں نے بھید یہ سارا جان لیا

آج ہے ڈیرا زرداروں کے سائے تلے امریکا کا

Thursday, 14 July 2022

پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر

 روئے بھگت کبیر


پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر

پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میر

چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر

روئے بھگت کبیر


اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بُدھی وان

Friday, 8 April 2022

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

 پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے 

ہم تِرا شہر چھوڑ جائیں گے 

دور افتادہ بستیوں میں کہیں 

تیری یادوں سے لو لگائیں گے 

شمع ماہ و نجوم گل کر کے 

آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے 

Monday, 13 September 2021

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

 دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا 

مت گھبرانا، مت ڈر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں 

وہ شمعیں روشن کر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا 

آخر سب کو ہے مر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

خوب آزادئ صحافت ہے

 خوب آزادئ صحافت ہے

نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے

دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن

یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے

دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار

سب کو معلوم یہ حقیقت ہے

Sunday, 20 December 2020

ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو

 ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو


ہنستی گاتی، روشن وادی

تاریکی میں ڈوب گئی

بیتے دن کی لاش پہ اے دل

میں روتا ہوں تُو بھی رو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

Monday, 9 November 2020

ہے آج سارے وطن کی زباں پہ نام اس کا

 مادرِ ملت کے لیے ہدیۂ تبریک


ہے آج سارے وطن کی زباں پہ نام اس کا

وہ مر گئی ہے مگر زندہ ہے پیام اس کا

یونہی رہے گا ہر اک دل میں احترام اس کا

بلند رکھیں گے پرچم سدا عوام اس کا

نشاں تمہارا نہ ہو گا، ذرا مرو تو سہی

فرازِ جاہ سے نیچے قدم دھرو تو سہی


حبیب جالب

شیوخ و شاہ کو سمجھو نہ پاسبان حرم

 شیوخ و شاہ کو سمجھو نہ پاسبانِ حرم

یہ بندگانِ زر و سیم ہیں خدا کی قسم

شیوخ و شاہ تو ہیں خود شریکِ ظلم و ستم

شیوخ و شاہ سے رکھو نہ کچھ امیدِ کرم

امیر کیسے نہ واشنگٹن کے ساتھ رہیں

انہی کے دم سے ہیں ساری امارتیں ہمدم

حکمراں ہو گئے کمینے لوگ

 ہوئے آقا فرنگیوں کے غلام

شبِ آلام ہو سکی نہ تمام

حکمراں ہو گئے کمینے لوگ

خاک میں مل گئے نگینے لوگ

ہر محبِ وطن ذلیل ہوا 

رات کا فاصلہ طویل ہوا 

Tuesday, 20 October 2020

ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم

 ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم

کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا

جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں

کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

Sunday, 18 October 2020

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

 دل پُر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

تجھ سے بھی ہم نے تِرا پیار چھپائے رکھا

چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے

ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت

پھر بھی ہم نے تِرا غم دل میں بسائے رکھا

شہر ظلمات کو ثبات نہیں

شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں

اے نظامِ کہن کے فرزندو

اے شبِ تار کے جگر بندو

یہ شبِ تار جاوداں تو نہیں

یہ شبِ تار جانے والی ہے

تا بکے تیرگی کے افسانے

Tuesday, 6 October 2020

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

 کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں

نجانے پھر یہ رت آئے نہ آئے

جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں

بہت روئے زمانے کے لیے ہم

ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں

Saturday, 19 September 2020

یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

 یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں

وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر

نئی ہے شمع پروانے پرانے