Monday, 13 September 2021

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

 دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا 

مت گھبرانا، مت ڈر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں 

وہ شمعیں روشن کر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا 

آخر سب کو ہے مر جانا، سچ ہی لکھتے جانا 

لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یوں ہی

جالب سچ کا دم بھر جانا سچ ہی لکھتے جانا


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment