تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
یہ ہم فقیر جو کم کم دھمال ڈالتے ہیں
زمین ہلتی ہے جس دم دھمال ڈالتے ہیں
تمہیں کنارے سے دریا دکھانے کا مطلب
یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم دھمال ڈالتے ہیں
ہمارے بخت فقیروں کی انگلیوں پہ نثار
جہاں زمرد و نیلم دھمال ڈالتے ہیں
کسی کے بعد
اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ
مجھے کہتی ہے؛ تابش! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کو
برے ہیں ناں
اگر یہ خوبصورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا
عجب لڑکی ہے
صف ماتم بچھی ہے
سخن کا آخری در بند ہونے کی خبر نے
کھڑکیوں کے پار بیٹھے غمگساروں کو
یہ کیسی چپ لگا دی ہے
یہ کس کی ناگہانی موت پر سرگوشیوں کی آگ روشن ہے
کسی کے کنج لب سے کوئی تارا میرے دل پر آن پڑتا ہے
ہمیں لپٹنے کو دیوار و در نہیں آئے
کسی مکان میں آئے ہیں گھر نہیں آئے
پلٹ کے آ گیا تُو بھی تیری محبت بھی
مگر وہ پندرہ برس لوٹ کر نہیں آئے
میاں یہ آنکھیں ہمیں واپسی پہ چاہئیں تھیں
ہم اس لیے بھی اسے دیکھ کر نہیں آئے
کہاں جانا تھا مجھ کو
کس نگر کی خاک بالوں میں سجانا تھی
مجھے کِن ٹہنیوں سے دُھوپ چُننا تھی
کہاں خیمہ لگانا تھا
مِری مٹی راہِ سیارگاں کی ہم قدم نکلی
مِری پلکوں پہ تارے جھلملاتے ہیں
عجیب طور کی ہے اب کے سرگرانی مِری
میں تجھ کو یاد بھی کر لوں تو مہربانی مری
میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید
مِرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری
بس ایک موڑ مِری زندگی میں آیا تھا
پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری
شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر
چڑیوں نے رات شور مچایا درخت پر
موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
تم آئے اور بُور نہ آیا درخت پر
دیکھا نہ جائے دھوپ میں جلتا ہوا کوئی
میرا جو بس چلے کروں سایہ درخت پر
ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے
آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے
اس لیے مجھ کو پسند آتا ہے صحرا کا سکوت
اس کا نشہ تِری باتوں کی طرح ہوتا ہے
ہم جسے عشق میں دیتے ہیں خدا کا منصب
پہلے پہلے ہمِیں لوگوں کی طرح ہوتا ہے
فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا
مِرے دکھ تک مِرے خوں اور پسینے کی کمائی ہیں
تمہیں کیوں میری محنت کا ثمر اچھا نہیں لگتا
شکستہ سطر چاہے رنگ و بوئے پیرہن ٹھہرے
کسی صورت مجھے عجز ہنر اچھا نہیں لگتا
یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے
ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے
قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے
زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے
راستے جو بھی چمکدار نظر آتے ہیں
سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں
کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں
میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی
ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں
آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے
یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے
جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا
ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے
ذہن مِرا آزاد ہے، لیکن دل کا دل مٹھی میں
آدھا اس نے قید رکھا ہے، آدھا چھوڑ دیا ہے
تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے
تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے
تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے
جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے
تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں
دنیا بھی گئی عشق میں تجھ سے بھی گیا میں
اک سوچ میں گم ہوں تِری دیوار سے لگ کر
منزل پہ پہنچ کر بھی ٹھکانے نہ لگا میں
ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں
یاد کر کر کے اسے وقت گزارا جائے
کس کو فرصت ہے وہاں کون دوبارہ جائے
شک سا ہوتا ہے ہر اک پہ کہ کہیں تُو ہی نہ ہو
اب تِرے نام سے کس کس کو پکارا جائے
تجھ کو بہت یاد ہیں اس کی باتیں
کیوں نہ کچھ وقت تِرے ساتھ گزارا جائے
زخم مہکے نہ کوئی رنگ طبعیت لائی
زندگی مجھ کو عبث کوئے ملامت لائی
اس کو مدت سے کوئی قیس نہیں ملتا تھا
میری دہلیز پہ صحرا کو ضرورت لائی
میں سمجھتا تھا کرے گی وہ تمہاری باتیں
خلقتِ شہر کوئی اور شکایت لائی