Showing posts with label عباس تابش. Show all posts
Showing posts with label عباس تابش. Show all posts

Thursday, 5 February 2026

تو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو

 تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو

زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو

مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے

لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو

ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے

تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو

Sunday, 21 May 2023

یہ ہم فقیر جو کم کم دھمال ڈالتے ہیں

 یہ ہم فقیر جو کم کم دھمال ڈالتے ہیں

زمین ہلتی ہے جس دم دھمال ڈالتے ہیں

تمہیں کنارے سے دریا دکھانے کا مطلب

یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم دھمال ڈالتے ہیں

ہمارے بخت فقیروں کی انگلیوں پہ نثار

جہاں زمرد و نیلم دھمال ڈالتے ہیں

Friday, 7 April 2023

اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ

 کسی کے بعد 

اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ 

مجھے کہتی ہے؛ تابش! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کو 

برے ہیں ناں

اگر یہ خوبصورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا

عجب لڑکی ہے 

Thursday, 20 October 2022

صف ماتم بچھی ہے

 صف ماتم بچھی ہے 

سخن کا آخری در بند ہونے کی خبر نے 

کھڑکیوں کے پار بیٹھے غمگساروں کو 

یہ کیسی چپ لگا دی ہے 

یہ کس کی ناگہانی موت پر سرگوشیوں کی آگ روشن ہے 

کسی کے کنج لب سے کوئی تارا میرے دل پر آن پڑتا ہے 

Tuesday, 30 August 2022

ہمیں لپٹنے کو دیوار و در نہیں آئے

 ہمیں لپٹنے کو دیوار و در نہیں آئے

کسی مکان میں آئے ہیں گھر نہیں آئے

پلٹ کے آ گیا تُو بھی تیری محبت بھی

مگر وہ پندرہ برس لوٹ کر نہیں آئے

میاں یہ آنکھیں ہمیں واپسی پہ چاہئیں تھیں

ہم اس لیے بھی اسے دیکھ کر نہیں آئے

Wednesday, 22 June 2022

کہاں جانا تھا مجھ کو کس جگہ خیمہ لگانا تھا

 کہاں جانا تھا مجھ کو

کس نگر کی خاک بالوں میں سجانا تھی

مجھے کِن ٹہنیوں سے دُھوپ چُننا تھی

کہاں خیمہ لگانا تھا

مِری مٹی راہِ سیارگاں کی ہم قدم نکلی

مِری پلکوں پہ تارے جھلملاتے ہیں

Friday, 22 April 2022

عجیب طور کی ہے اب کے سرگرانی مری

 عجیب طور کی ہے اب کے سرگرانی مِری

میں تجھ کو یاد بھی کر لوں تو مہربانی مری

میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید

مِرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

بس ایک موڑ مِری زندگی میں آیا تھا

پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

Monday, 4 April 2022

شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر

 شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر

چڑیوں نے رات شور مچایا درخت پر

موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا

تم آئے اور بُور نہ آیا درخت پر

دیکھا نہ جائے دھوپ میں جلتا ہوا کوئی

میرا جو بس چلے کروں سایہ درخت پر

Wednesday, 28 October 2020

ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے

 ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے

آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے

اس لیے مجھ کو پسند آتا ہے صحرا کا سکوت

اس کا نشہ تِری باتوں کی طرح ہوتا ہے

ہم جسے عشق میں دیتے ہیں خدا کا منصب

پہلے پہلے ہمِیں لوگوں کی طرح ہوتا ہے

Saturday, 10 October 2020

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا

 فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا

جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا 

مِرے دکھ تک مِرے خوں اور پسینے کی کمائی ہیں 

تمہیں کیوں میری محنت کا ثمر اچھا نہیں لگتا 

شکستہ سطر چاہے رنگ و بوئے پیرہن ٹھہرے 

کسی صورت مجھے عجز ہنر اچھا نہیں لگتا

Tuesday, 6 October 2020

یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

 یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے

قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے

زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے

Sunday, 4 October 2020

راستے جو بھی چمکدار نظر آتے ہیں

 راستے جو بھی چمکدار نظر آتے ہیں

سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں

کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے

آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں

میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی

ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں

Saturday, 3 October 2020

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

 آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے

جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا

ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے

ذہن مِرا آزاد ہے، لیکن دل کا دل مٹھی میں

آدھا اس نے قید رکھا ہے، آدھا چھوڑ دیا ہے

Wednesday, 30 September 2020

تو چاہتا ہے کسی اور کو پتہ نہ لگے

 تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے

میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے

تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں

دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے

تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے

جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے

Monday, 28 September 2020

تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں

 تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں

دنیا بھی گئی عشق میں تجھ سے بھی گیا میں

اک سوچ میں گم ہوں تِری دیوار سے لگ کر

منزل پہ پہنچ کر بھی ٹھکانے نہ لگا میں

ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو

یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

Saturday, 26 September 2020

یاد کر کر کے اسے وقت گزارا جائے

 یاد کر کر کے اسے وقت گزارا جائے

کس کو فرصت ہے وہاں کون دوبارہ جائے

شک سا ہوتا ہے ہر اک پہ کہ کہیں تُو ہی نہ ہو

اب تِرے نام سے کس کس کو پکارا جائے

تجھ کو بہت یاد ہیں اس کی باتیں

کیوں نہ کچھ وقت تِرے ساتھ گزارا جائے

Friday, 25 September 2020

زخم مہکے نہ کوئی رنگ طبعیت لائی

 زخم مہکے نہ کوئی رنگ طبعیت لائی

زندگی مجھ کو عبث کوئے ملامت لائی

اس کو مدت سے کوئی قیس نہیں ملتا تھا

میری دہلیز پہ صحرا کو ضرورت لائی

میں سمجھتا تھا کرے گی وہ تمہاری باتیں

خلقتِ شہر کوئی اور شکایت لائی

Friday, 28 August 2020

شامل مرے غبار میں صحرا اگر نہ ہو

شامل مِرے غبار میں صحرا اگر نہ ہو
مجھ سے تو اک قدم بھی یہ وحشت بسر نہ ہو
کیسے وہ کوہسار کے دکھ کو سمجھ سکے
چشمے پہ جس کو شائبۂ چشمِ تر نہ ہو
پتھر زمیں پہ پھینک کے چھینٹے اڑاوں میں
گر مجھ کو تیری جھیل سی آنکھوں کا ڈر نہ ہو

صدائے ذات کے اونچے حصار میں گم ہے

صدائے ذات کے اونچے حصار میں گم ہے
وہ خامشی کا مسافر پکار میں گم ہے
وہ شہرِ شب کے کنارے چراغ جلتا ہے
کہ کوئی صبح مِرے انتظار میں گم ہے
یہ کہہ رہی ہیں کسی کی جھکی جھکی آنکھیں
بدن کی آنچ نظر کے خمار میں گم ہے

Friday, 22 November 2019

شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر

شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر
چڑیوں نے رات شور مچایا درخت پر
موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
تم آئے اور بُور نہ آیا درخت پر
دیکھا نہ جائے دھوپ میں جلتا ہوا کوئی
میرا جو بس چلے کروں سایہ درخت پر