Monday, 4 April 2022

شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر

 شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر

چڑیوں نے رات شور مچایا درخت پر

موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا

تم آئے اور بُور نہ آیا درخت پر

دیکھا نہ جائے دھوپ میں جلتا ہوا کوئی

میرا جو بس چلے کروں سایہ درخت پر

سب چھوڑے جا رہے تھے سفر کی نشانیاں

میں نے بھی ایک نقش بنایا درخت پر

اب کے بہار آئی ہے شاید غلط جگہ

جو زخم دل پہ آنا تھا آیا درخت پر

ہم دونوں اپنے اپنے گھروں میں مقیم ہیں

پڑتا نہیں درخت کا سایہ درخت پر


عباس تابش

No comments:

Post a Comment