خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
مِری تنہائی کا عالم تو دیکھو
زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
مِری تنہائی کا عالم تو دیکھو
زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
اک نئی داستاں سنانے دو
آج کی نیند پھر گنوانے دو
بیڑیاں توڑ کر سماجوں کی
عشق میں قید ہیں دِوانے دو
میرے ماضی کے ریگزاروں میں
خط ملے ہیں مجھے پرانے دو
کچھ بات رہ گئی تھی بتانے کے باوجود
ہوں حالت سفر میں گھر آنے کے باوجود
دل سے اتر چکا تھا جو آ کر گلے ملا
دوری وہی تھی دل سے لگانے کے باوجود
ہاتھوں میں اب بھی اس کی ہے خوشبو بسی ہوئی
جو رہ گئی تھی ہاتھ چھڑانے کے باوجود
کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم
گھڑی میں وقت کو اُلٹا گھما رہے تھے ہم
نہیں تھا یاد سبق اپنی زندگی کا ہمیں
سو امتحان کا پرچہ بنا رہے تھے ہم
کنارے بیٹھ کے آنسو بہا کے آئے تھے
ندی کی پیاس کو پانی پلا رہے تھے ہم
اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا
تو اس سے بڑھ کے مِرے ساتھ کوئی کیا کرے گا
سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا
مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا
ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو
جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا
تم سے آتا نہیں جدا ہونا
تم مِری آخری سزا ہو نا
جس کو تم روز دِکھ ہی جاتے ہو
اس کی قسمت ہے آئینہ ہونا
اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے
ان درختوں کا یوں ہرا ہونا
یہ بن سنور کے مِری سادگی میں لوٹ آئے
مِرے خیال مِری شاعری میں لوٹ آئے
اسے کہو کہ مِری ذات اب بھی باقی ہے
دیا بجھا دے مِری روشنی میں لوٹ آئے
وہ جس طرح سے پرندے شجر پہ لوٹتے ہیں
ہم اپنے آپ سے نکلے تجھی میں لوٹ آئے