Showing posts with label عائشہ ایوب. Show all posts
Showing posts with label عائشہ ایوب. Show all posts

Wednesday, 3 May 2023

خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے

 خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے

بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے

ہمیں ہم سے بچانے کون آتا

سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے

مِری تنہائی کا عالم تو دیکھو

زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے

Friday, 6 August 2021

عشق میں قید ہیں دوانے دو

 اک نئی داستاں سنانے دو

آج کی نیند پھر گنوانے دو

بیڑیاں توڑ کر سماجوں کی

عشق میں قید ہیں دِوانے دو

میرے ماضی کے ریگزاروں میں

خط ملے ہیں مجھے پرانے دو

Wednesday, 23 June 2021

کچھ بات رہ گئی تھی بتانے کے باوجود

 کچھ بات رہ گئی تھی بتانے کے باوجود

ہوں حالت سفر میں گھر آنے کے باوجود

دل سے اتر چکا تھا جو آ کر گلے ملا

دوری وہی تھی دل سے لگانے کے باوجود

ہاتھوں میں اب بھی اس کی ہے خوشبو بسی ہوئی

جو رہ گئی تھی ہاتھ چھڑانے کے باوجود

Tuesday, 22 June 2021

کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم

 کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم

گھڑی میں وقت کو اُلٹا گھما رہے تھے ہم

نہیں تھا یاد سبق اپنی زندگی کا ہمیں

سو امتحان کا پرچہ بنا رہے تھے ہم

کنارے بیٹھ کے آنسو بہا کے آئے تھے

ندی کی پیاس کو پانی پلا رہے تھے ہم

Monday, 21 June 2021

اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا

 اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا

تو اس سے بڑھ کے مِرے ساتھ کوئی کیا کرے گا

سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا

مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا

ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو

جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا

Sunday, 20 June 2021

تم سے آتا نہیں جدا ہونا

 تم سے آتا نہیں جدا ہونا

تم مِری آخری سزا ہو نا

جس کو تم روز دِکھ ہی جاتے ہو

اس کی قسمت ہے آئینہ ہونا

اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے

ان درختوں کا یوں ہرا ہونا

Monday, 7 June 2021

یہ بن سنور کے مری سادگی میں لوٹ آئے

 یہ بن سنور کے مِری سادگی میں لوٹ آئے

مِرے خیال مِری شاعری میں لوٹ آئے

اسے کہو کہ مِری ذات اب بھی باقی ہے

دیا بجھا دے مِری روشنی میں لوٹ آئے

وہ جس طرح سے پرندے شجر پہ لوٹتے ہیں

ہم اپنے آپ سے نکلے تجھی میں لوٹ آئے