Friday, 6 August 2021

عشق میں قید ہیں دوانے دو

 اک نئی داستاں سنانے دو

آج کی نیند پھر گنوانے دو

بیڑیاں توڑ کر سماجوں کی

عشق میں قید ہیں دِوانے دو

میرے ماضی کے ریگزاروں میں

خط ملے ہیں مجھے پرانے دو

آج روئیں گے ہم بھی جی بھر کے

غم تو بس ایک ہے، بہانے دو

اس کو آزاد کر چکی ہوں میں

پھر بھی کہتا ہے مجھ کو جانے دو

ایک چہرے سے میں پریشاں ہوں

اب مجھے آئینے سجانے دو

رقص کرتی ہے مجھ میں خاموشی

تھک گئی ہے، اسے سلانے دو


عائشہ ایوب

No comments:

Post a Comment