قرض یادوں کا تِری ہم سے اُتارا نہ گیا
بُھولنا چاہا تجھے لاکھ، بُھلایا نہ گیا
زندگی میں نے تیرا بوجھ اُٹھایا برسوں
تجھ سے دو دن بھی مِرا بوجھ اُٹھایا نہ گیا
اس کو دیکھا تھا فقط ایک نظر میں نے مگر
زندگی بھر مِری آنکھوں کا اُجالا نہ گیا
بھیک ڈالی نہ کبھی حُسن کی اس نے اپنی
میرے ہاتھوں سے مگر عشق کا کاسہ نہ گیا
زخم گہرا تھا فہیم اس کی شناسائی کا
اس نے چاہا بھی مگر ہم سے دکھایا نہ گیا
محمد فہیم
No comments:
Post a Comment