Showing posts with label احسان اکبر. Show all posts
Showing posts with label احسان اکبر. Show all posts

Sunday, 15 October 2023

درود اس نور پر جس سے ورود انوار نے پایا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درود اس نور پر جس سے ورود انوار نے پایا

تحیّر اور محبت سے زمیں ساکت، فلک شیدا

نگہ اس فخر نرگس آنکھ والی ما طغیٰ والی

وہ رنگ اس زُلفِ مُشکیں کا کہ والیلِ اذا یغشیٰ

ہراک سینے میں شوق ان سے دلوں میں زندہ ذوق ان سے

زباں کوئی ہو ذکر ان کا، کوئی سر ہو وہی سودا

Wednesday, 31 March 2021

کوئی دابی پور کماد کی

کوئی دابی پور کماد کی

اک منزل پچھلے چاند کی

نت روشن جس کی لَو

وہ وقت کو پیچھے چھوڑ گئی

اسے دھنّے واد کہو

دابی ہوئی پور کماد کی

Saturday, 27 March 2021

جہاں تم ہو آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

 جہاں تم ہو 


آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

میں اس روٹ پر

پہیلی گاڑی کا مہماں تھا

بے طرح گھومتی گیند پر اب نفس جتنے انفاس کا اور مہمان ہے

ان کی گنتی مِری داستاں میں نہیں

Friday, 26 March 2021

محور قدم مٹی پہ رکھتی ہو

 محور


قدم مٹی پہ رکھتی ہو 

کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں 

کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو 

تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو 

بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے 

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

 ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردہ ہے تو جلوہ کیا ہے

دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں

پتلیوں کا یہ تماشا سا وگرنہ کیا ہے

تُو نے پہچان لیے اپنی خدائی کے نقوش

آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا، کیا ہے

Tuesday, 19 January 2021

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

 ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

فضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوار

یہی تھے صحن فضا اور یہی گھر آنگن تھا 

تم آئے ہو تو ہوئے محتشم در و دیوار 

ہم اپنے درد ہواؤں سے بھی نہیں کہتے 

اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم در و دیوار