Friday, 26 March 2021

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

 ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردہ ہے تو جلوہ کیا ہے

دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں

پتلیوں کا یہ تماشا سا وگرنہ کیا ہے

تُو نے پہچان لیے اپنی خدائی کے نقوش

آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا، کیا ہے

زندگی بھر پڑھی تقدیر کی خفیہ تحریر

لوحِ مرقد سے پڑھوں آگے کا لکھا کیا ہے

میں ہوں تخلیق تِری سوز کا ہم معنی ہوں

تُو ہے معنی تو تِرا لفظ سے رشتہ کیا ہے

ہر نفس پیٹ کا ایندھن ہے یہاں پر اے فن

ہے جو حاصل تِرا دنیا ہی تو دنیا کیا ہے


احسان اکبر

No comments:

Post a Comment