سچ
نہ میرے پاؤں کی انگلی
انگوٹھے سے بڑی ہے
نہ میرے ہاتھ کی وہ لکیر
کہیں سے بھی کٹی ہوئی ہے
پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو
سچ
نہ میرے پاؤں کی انگلی
انگوٹھے سے بڑی ہے
نہ میرے ہاتھ کی وہ لکیر
کہیں سے بھی کٹی ہوئی ہے
پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو
پردے مِری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے
کیا کہیے ان کے جلوے کہاں تھے کہاں نہ تھے
جس راستے سے لے گئی تھی مجھ کو بے خودی
اس راہ میں کسی کے قدم کے نشاں نہ تھے
راز آشنا ہے میری نظر، یا پھر آئینہ
ورنہ وہ اپنے حسن کے خود رازداں نہ تھے
عہدِ وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں
ہم ان کو حال دل نہ سنائیں تو کیا کریں
جن سے نہیں ہے آپ کی منزل کو واسطہ
ان راستوں سے لوٹ نہ جائیں تو کیا کریں
وہ ہر طرف ہیں سمت کی جب قید ہی نہیں
دیر و حرم میں سر نہ جھکائیں تو کیا کریں
دل کی روداد دل لگی نہ سہی
سن تو لیجے کبھی ابھی نہ سہی
دیکھ کر مجھ کو پھیر لیں نظریں
ان کے چہرے پہ برہمی نہ سہی
ان کا جلوہ تو ہر مقام پہ ہے
عام فیضانِ دید ہی نہ سہی
ضرور چشمِ تماشا چمن پہ ناز کرے
مگر بہار و خزاں میں تو امتیاز کرے
مِری حیات کا مقصد ہے صرف لذتِ غم
کوئی یہ سلسلۂ غم ذرا دراز کرے
جنوں کے دور میں ہو جس کو شوقِ گلچینی
چمن میں کیسے وہ کانٹوں سے احتراز کرے
وقت کے ماتھے پہ آ جائے شکن ایسا نہ ہو
وقت کے تیور بدل جائیں تو پھر کیا کیا نہ ہو
سب طلسمات نظر ہیں، سب کرشمے عقل کے
ہم کو ہے اس کا یقیں جس کو کبھی دیکھا نہ ہو
گھر سے باہر جاؤں تو رہتا ہے کھٹکا سا لگا
میں یہاں ہوں اور میرے گھر کوئی آیا نہ ہو