Showing posts with label اشرف رفیع. Show all posts
Showing posts with label اشرف رفیع. Show all posts

Saturday, 12 March 2022

پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو

 سچ


نہ میرے پاؤں کی انگلی 

انگوٹھے سے بڑی ہے

نہ میرے ہاتھ کی وہ لکیر

کہیں سے بھی کٹی ہوئی ہے

پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو

Friday, 24 December 2021

پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے

 پردے مِری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے

کیا کہیے ان کے جلوے کہاں تھے کہاں نہ تھے

جس راستے سے لے گئی تھی مجھ کو بے خودی

اس راہ میں کسی کے قدم کے نشاں نہ تھے

راز آشنا ہے میری نظر، یا پھر آئینہ

ورنہ وہ اپنے حسن کے خود رازداں نہ تھے

Thursday, 16 December 2021

عہد وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں

 عہدِ وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں

ہم ان کو حال دل نہ سنائیں تو کیا کریں

جن سے نہیں ہے آپ کی منزل کو واسطہ

ان راستوں سے لوٹ نہ جائیں تو کیا کریں

وہ ہر طرف ہیں سمت کی جب قید ہی نہیں

دیر و حرم میں سر نہ جھکائیں تو کیا کریں

Tuesday, 7 December 2021

دل کی روداد دل لگی نہ سہی

 دل کی روداد دل لگی نہ سہی

سن تو لیجے کبھی ابھی نہ سہی

دیکھ کر مجھ کو پھیر لیں نظریں

ان کے چہرے پہ برہمی نہ سہی

ان کا جلوہ تو ہر مقام پہ ہے

عام فیضانِ دید ہی نہ سہی

Monday, 6 December 2021

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے

 ضرور چشمِ تماشا چمن پہ ناز کرے

مگر بہار و خزاں میں تو امتیاز کرے

مِری حیات کا مقصد ہے صرف لذتِ غم

کوئی یہ سلسلۂ غم ذرا دراز کرے

جنوں کے دور میں ہو جس کو شوقِ گلچینی

چمن میں کیسے وہ کانٹوں سے احتراز کرے

Wednesday, 8 September 2021

وقت کے ماتھے پہ آ جائے شکن ایسا نہ ہو

 وقت کے ماتھے پہ آ جائے شکن ایسا نہ ہو

وقت کے تیور بدل جائیں تو پھر کیا کیا نہ ہو

سب طلسمات نظر ہیں، سب کرشمے عقل کے

ہم کو ہے اس کا یقیں جس کو کبھی دیکھا نہ ہو

گھر سے باہر جاؤں تو رہتا ہے کھٹکا سا لگا

میں یہاں ہوں اور میرے گھر کوئی آیا نہ ہو