تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا
اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا
سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی
اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا
اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی
ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا
تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا
اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا
سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی
اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا
اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی
ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا
غبارِ جاں، پسِ دیوار و در سمیٹا ہے
دیارِ سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے
سمندروں میں بھی سورج نے بو دئیے ہیں سراب
گئے تھے سِیپ اٹھانے،۔ بھنور سمیٹا ہے
صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی
ہر ایک راہ میں زادِ سفر سمیٹا ہے
جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے
باب لکھے نہیں، عنوان تو سارے لکھے
منظرِ غم تھا شفق رنگ کہاں عکس اترا
خون کا رنگ لکھا شام کے پیارے لکھے
نذرِ طوفان ہوئے سارے سفینوں کے چراغ
وہ اندھیرے جو نگاہوں نے سہارے لکھے
پُر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا
آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا
سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں
گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا
بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رُخصت ہوئی
شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا
ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں
کہ شاخ وصل پہ تازہ گلاب سے کچھ ہیں
یہ پل کا قصہ ہے صدیوں پہ جو محیط رہا
بر آب ساعت گزراں حباب سے کچھ ہیں
ہجوم ہم کو سر آنکھوں پہ کیوں بٹھائے رہا
دل و نظر پہ ہمارے عذاب سے کچھ ہیں