Showing posts with label عذرا وحید. Show all posts
Showing posts with label عذرا وحید. Show all posts

Saturday, 13 November 2021

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

 تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا

سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی

اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا

اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی

ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا

Monday, 8 November 2021

غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے

 غبارِ جاں، پسِ دیوار و در سمیٹا ہے

دیارِ سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے

سمندروں میں بھی سورج نے بو دئیے ہیں سراب

گئے تھے سِیپ اٹھانے،۔ بھنور سمیٹا ہے

صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی

ہر ایک راہ میں زادِ سفر سمیٹا ہے

Thursday, 4 November 2021

جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے

 جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے

باب لکھے نہیں، عنوان تو سارے لکھے

منظرِ غم تھا شفق رنگ کہاں عکس اترا

خون کا رنگ لکھا شام کے پیارے لکھے

نذرِ طوفان ہوئے سارے سفینوں کے چراغ

وہ اندھیرے جو نگاہوں نے سہارے لکھے

Monday, 17 May 2021

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا

 پُر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا

آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا

سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں

گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا

بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رُخصت ہوئی

شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا

Friday, 9 April 2021

ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں

 ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں

کہ شاخ وصل پہ تازہ گلاب سے کچھ ہیں

یہ پل کا قصہ ہے صدیوں پہ جو محیط رہا

بر آب ساعت گزراں حباب سے کچھ ہیں

ہجوم ہم کو سر آنکھوں پہ کیوں بٹھائے رہا

دل و نظر پہ ہمارے عذاب سے کچھ ہیں