Saturday, 13 November 2021

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

 تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا

سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی

اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا

اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی

ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا

چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے

سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں رہنا

اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی

یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا


عذرا وحید

No comments:

Post a Comment