Showing posts with label صبا افغانی. Show all posts
Showing posts with label صبا افغانی. Show all posts

Thursday, 15 April 2021

لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نے

 لٹا کے راہِ محبت میں ہر خوشی میں نے

لیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نے

نجانے کیوں تیری چشمِ کرم کو سہہ نہ سکا

تیرے ستم تو سہے تھے ہنسی خوشی میں نے

تیرے حسین تصور کو سامنے لا کر

شبِ فراق کو بخشی ہے چاندنی میں نے

Monday, 12 October 2020

کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیں

 کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیں

راہ میں بھی کوئی شمع جلتی نہیں آسماں پر بھی کوئی ستارا نہیں

یہ بہار و خزاں یہ خوشی اور غم یہ حسیں نازنیں دل کے پتھر صنم

سب سہارے ہیں بس چار دن کے لیے زندگی بھر کا کوئی سہارا نہیں

میری غیرت مِری آن کا امتحاں تیری سازش پہ بھاری ہے اے باغباں

جان دے دوں ابھی یہ تو منظور ہے، گلستاں چھوڑ دوں یہ گوارا نہیں

Tuesday, 20 December 2016

تجھ کو دریا دلی کی قسم ساقیا مستقل طور پہ دور چلتا رہے

تجھ کو دریا دلی کی قسم ساقیا 
مستقل طور پہ دور چلتا رہے 
رونق مۓ کدہ یونہی بڑھتی رہے 
ایک گرتا رہے، اک سنبھلتا رہے

صرف شبنم ہی شان گلستاں نہیں 
شعلہ و گل کا بھی دور بھی چلتا رہے

Friday, 25 December 2015

گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہے

گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہے
جینے کے لیے اس دنیا میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہے
اے واعظِ ناداں! کرتا ہے تُو ایک قیامت کا چرچا
یہاں روز نگاہیں ملتی ہیں، یہاں روز قیامت ہوتی ہے 
وہ پرسشِ غم کو آئے ہیں کچھ کہہ نہ سکوں، چپ رہ نہ سکوں
خاموش رہوں تو مشکل ہے، کچھ کہہ دوں تو شکایت ہوتی ہے

میں نے جب سے تجھے اے جان غزل دیکھا ہے

میں نے جب سے تجھے اے جان غزل دیکھا ہے
مسکراتا ہوا اس دل میں کنول دیکھا ہے 

جب ملی ہے میری نظروں سے تیری شوخ نظر
تیری پلکوں کی گھنی چھاؤں میں، میں نے اکثر 
جگمگاتا ہوا اک تاج محل دیکھا ہے
میں نے جب سے تجھے اے جان غزل دیکھا ہے

یوں بیخودی سے کام لیا ہے کبھی کبھی

یوں بے خودی سے کام لیا ہے کبھی کبھی
عرشِ بریں کو تھام لیا ہے کبھی کبھی
میں نے تجھے پکار لیا ہے تو ظلم کیا
تُو نے بھی میرا نام لیا ہے کبھی کبھی
اب تک نظر میں ہیں تِری پلکیں جھکی جھکی
یوں بھی تیرا سلام لیا ہے کبھی کبھی

Thursday, 24 December 2015

چاند تارے بھی زیر قدم آ گئے

چاند تارے بھی زیرِ قدم آ گئے
یہ کہاں تیری چاہت میں ہم آ گئے
جب کبھی یاد ان کے ستم آ گئے
وہ تصور میں با چشمِ نم آ گئے
دفعتاً زلف رخ پر جو لہرا گئی
ایک مرکز پہ دیر و حرم آ گئے

تیرے جلوے اب مجھے ہر سو نظر آنے لگے

تیرے جلوے اب مجھے ہر سُو نظر آنے لگے
کاش یہ بھی ہو کہ مجھ میں تُو نظر آنے لگے
ابتدا یہ تھی کہ دیکھی تھی خوشی کی اک جھلک
انتہا یہ ہے کہ غم ہر سُو نظر آنے لگے
بے قراری بڑھتے بڑھتے دل کی فطرت بن گئی
شاید اب تسکین کا پہلو نظر آنے لگے

تم اپنے خط میں یوں لفظوں کا سلسلہ رکھنا

تم اپنے خط میں یوں لفظوں کا سلسلہ رکھنا 
ہر ایک لفظ کا مفہوم 'دوسرا' رکھنا
تمہارے لب کی مہک راز فاش کر دے گی 
لفافہ بند ناں کرنا، یوں ہی کھلا رکھنا
نہ اتنا ٹوٹ کے مِلیے کہ دل پہ شک گزرے 
خلوص میں بھی ضروری ہے فاصلہ رکھنا

دل کی تباہیوں کا تجھے کیوں ملال ہے

دل کی تباہیوں کا تجھے کیوں ملال ہے
جس کی یہ انجمن ہے اسے خود خیال ہے
چہرہ اداس اداس ہے، دل بھی نڈھال ہے
جو میرا حال تھا، وہی اب ان کا حال ہے
طوفاں کی زد سے بچ کے گزرنا نہیں کمال
موجوں میں غرق ہو کے ابھرنا کمال ہے

Sunday, 19 April 2015

زندگی کی راہوں میں رنج و غم کے میلے ہیں

زندگی کی راہوں میں، رنج و غم کے میلے ہیں
بھیڑ ہے قیامت کی، اور ہم اکیلے ہیں
گیسوؤں کے سائے میں ایک شب گزاری تھی
آج تک جدائی کی دھوپ میں اکیلے ہیں
اب تو اپنا سایہ بھی، کھو گیا اندھیروں میں
آپ سے بچھڑ کر ہم، کس قدر اکیلے ہیں

Sunday, 15 December 2013

راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہے

راز ہے بہت گہرا، بات اک ذرا سی ہے
وہ ہیں سامنے پھر بھی چشمِ شوق پیاسی ہے
زندگی بھی برہم ہے، موت بھی خفا سی ہے
آج کل تو دونوں میں آپ کی ادا سی ہے
اپنی انجمن سے ہم یہ کہاں چلے آئے
ہر طرف اندھیرا ہے، ہر طرف اداسی ہے