لٹا کے راہِ محبت میں ہر خوشی میں نے
لیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نے
نجانے کیوں تیری چشمِ کرم کو سہہ نہ سکا
تیرے ستم تو سہے تھے ہنسی خوشی میں نے
تیرے حسین تصور کو سامنے لا کر
شبِ فراق کو بخشی ہے چاندنی میں نے
لٹا کے راہِ محبت میں ہر خوشی میں نے
لیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نے
نجانے کیوں تیری چشمِ کرم کو سہہ نہ سکا
تیرے ستم تو سہے تھے ہنسی خوشی میں نے
تیرے حسین تصور کو سامنے لا کر
شبِ فراق کو بخشی ہے چاندنی میں نے
کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیں
راہ میں بھی کوئی شمع جلتی نہیں آسماں پر بھی کوئی ستارا نہیں
یہ بہار و خزاں یہ خوشی اور غم یہ حسیں نازنیں دل کے پتھر صنم
سب سہارے ہیں بس چار دن کے لیے زندگی بھر کا کوئی سہارا نہیں
میری غیرت مِری آن کا امتحاں تیری سازش پہ بھاری ہے اے باغباں
جان دے دوں ابھی یہ تو منظور ہے، گلستاں چھوڑ دوں یہ گوارا نہیں